صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے ان کے یہاں کھانے سے منع فرمایا۔ (1)
حدیث ۱۰: امام احمد و ابو داود نے ایک صحابی سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب دو شخص دعوت دینے بیک وقت آئیں تو جس کا دروازہ تمھارے دروازہ سے قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو اور اگر ایک پہلے آیا تو جو پہلے آیا اس کی قبول کرو۔'' (2)
حدیث ۱۱: صحیح بخاری و مسلم میں ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ ایک انصاری جن کی کنیت ابوشعیب تھی، انھوں نے اپنے غلام سے کہا، کہ اتنا کھانا پکاؤ جو پانچ شخصوں کے لیے کفایت کرے۔ میں نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی مع چار اصحاب کے دعوت کروں گا۔ تھوڑا سا کھانا طیار کیا اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کو بلانے آئے، ایک شخص حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے ساتھ ہولیے، نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ابوشعیب ہمارے ساتھ یہ شخص چلا آیا، اگر تم چاہو اسے اجازت دو اور چاہو تو نہ اجازت دو، انھوں نے عرض کی، میں نے ان کو اجازت دی۔'' (3)
یعنی اگر کسی کی دعوت ہو اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا شخص بغیر بلائے چلا آئے تو ظاہر کردے کہ میں نہیں لایا ہوں اور صاحب خانہ کو اختیار ہے، اسے کھانے کی اجازت دے یا نہ دے، کیونکہ ظاہر نہ کریگا تو صاحبِ خانہ کو یہ ناگوار ہوگا کہ اپنے ساتھ دوسروں کو کیوں لایا۔
حدیث ۱۲: بیہقی نے شعب الایمان میں عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فاسقوں کی دعوت قبول کرنے سے منع فرمایا۔ (4)
حدیث ۱۳: صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو شخص اﷲ(عزوجل)اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے وہ مہمان کا اکرام کرے اور جو شخص اﷲ(عزوجل) اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے اور جو شخص اﷲ(عزوجل)اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے، وہ بھلی بات بولے یا چپ رہے۔''(5)