Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
392 - 660
دوسری دعوتوں کا بھی یہی حکم ہے کہ روزہ دار نہ ہو تو کھائے، ورنہ اس کے لیے دعا کرے۔ (1) (عالمگیری، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱: دعوتِ ولیمہ کا یہ حکم جو بیان کیا گیا ہے، اس وقت ہے کہ دعوت کرنے والوں کا مقصود ادائے سنت ہو اور اگر مقصود تفاخر ہو یا یہ کہ میری واہ واہ ہوگی جیسا کہ اس زمانہ میں اکثر یہی دیکھا جاتا ہے، تو ایسی دعوتوں میں نہ شریک ہونا بہتر ہے خصوصاً اہلِ علم کو ایسی جگہ نہ جانا چاہیے۔ (2) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲: دعوت میں جانا اس وقت سنت ہے جب معلوم ہو کہ وہاں گانا بجانا، لہو و لعب نہیں ہے اور اگر معلوم ہے کہ یہ خرافات وہاں ہیں تو نہ جائے۔ جانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں لغویات ہیں، اگر وہیں یہ چیزیں ہوں تو واپس آئے اور اگر مکان کے دوسرے حصے میں ہیں جس جگہ کھانا کھلایا جاتا ہے وہاں نہیں ہیں تو وہاں بیٹھ سکتا ہے اور کھا سکتا ہے پھر اگر یہ شخص ا ن لوگوں کو روک سکتا ہے تو روک دے اور اگر اس کی قدرت اسے نہ ہو تو صبر کرے۔ 

    یہ اس صورت میں ہے کہ یہ شخص مذہبی پیشوا نہ ہو اور اگر مقتدیٰ و پیشوا ہو، مثلاً علما و مشایخ، یہ اگر نہ روک سکتے ہوں تو وہاں سے چلے آئیں نہ وہاں بیٹھیں نہ کھانا کھائیں اور پہلے ہی سے یہ معلوم ہو کہ وہاں یہ چیزیں ہیں تو مقتدیٰ ہو یا نہ ہو کسی کو جانا جائز نہیں اگرچہ خاص اُس حصہ مکان میں یہ چیزیں نہ ہوں بلکہ دوسرے حصہ میں ہوں۔ (3) (ہدایہ، درمختار) 

    مسئلہ ۳: اگر وہاں لہوو لعب ہو اور یہ شخص جانتا ہے کہ میرے جانے سے یہ چیزیں بند ہوجائیں گی تو اس کو اس نیت سے جانا چاہیے کہ اس کے جانے سے منکراتِ شرعیہ روک دیے جائیں گے اور اگر معلوم ہے کہ وہاں نہ جانے سے ان لوگوں کو نصیحت ہوگی اور ایسے موقع پر یہ حرکتیں نہ کریں گے، کیونکہ وہ لوگ اس کی شرکت کو ضروری جانتے ہیں اور جب یہ معلوم ہوگا کہ اگر شادیوں اور تقریبوں میں یہ چیزیں ہوں گی تو وہ شخص شریک نہ ہوگا تو اس پر لازم ہے کہ وہاں نہ جائے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو اور ایسی حرکتیں نہ کریں۔ (4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۴: دعوتِ ولیمہ صرف پہلے دن ہے یا اس کے بعد دوسرے دن بھی یعنی دو ۲ ہی دن تک یہ دعوت ہوسکتی ہے، اس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الثاني عشر في الھدایا والضیافات،ج۵،ص۳۴۳.

و''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۴.

2۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۴.

3۔۔۔۔۔۔ ''الھدایۃ''،کتاب الکراھیۃ، فصل في الأکل والشرب،ج۲،ص۳۶۵. 

و''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۷۴. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثاني عشر في الھدایا والضیافات،ج۵،ص۳۴۳.
Flag Counter