حدیث ۴: صحیح بخاری و مسلم میں عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کسی شخص کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو اسے آنا چاہیے۔''(1)
حدیث ۵: صحیح مسلم میں جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جب کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو قبول کرنی چاہیے پھر اگر چاہے کھائے، چاہے نہ کھائے۔'' (2)
حدیث ۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے، جس میں مال دار لوگ بلائے جاتے ہیں اور فقرا چھوڑ دیے جاتے ہیں اور جس نے دعوت کو ترک کیا (یعنی بلا سبب انکار کردیا)اس نے اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کی نافرمانی کی۔''(3)
مسلم کی ایک روایت میں ہے، ولیمہ کا کھانا برا کھانا ہے کہ جو اس میں آتا ہے اسے منع کرتا ہے۔ اور اس کو بلایا جاتا ہے جو انکار کرتا ہے اور جس نے دعوت قبول نہیں کی اس نے اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کی نافرمانی کی۔ (4)
حدیث ۷: ابو داود نے عبداﷲبن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جس کو دعوت دی گئی اور اس نے قبول نہ کی اس نے اﷲو رسول (عزوجل وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی نافرمانی کی اور جو بغیر بلائے گیا وہ چور ہو کر گھسا اور غارت گری کرکے نکلا۔'' (5)
حدیث ۸: ترمذی نے عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''(شادیوں میں)پہلے دن کا کھانا حق ہے یعنی ثابت ہے، اسے کرنا ہی چاہیے اور دوسرے دن کا کھانا سنت ہے اور تیسرے دن کا کھانا سمعہ ہے (یعنی سنانے اور شہ رت کے لیے ہے)۔ جو سنانے کے لیے کوئی کام کریگا،اﷲ تعالیٰ اس کو سنائے گا۔''(6)یعنی اس کی سزا دے گا۔
حدیث ۹: ابو داود نے عکرمہ سے روایت کی، کہ ایسے دو شخص جو مقابلہ اور تفاخر کے طور پر دعوت کریں، رسول اﷲ