حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ پر زردی کا اثر دیکھا (یعنی خلوق کا رنگ ان کے بدن یا کپڑوں پر لگا ہوا دیکھا)فرمایا:یہ کیا ہے؟ (یعنی مرد کے بدن پر اس رنگ کونہ ہونا چاہیے یہ کیونکر لگا)عرض کی، میں نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے (اس کے بدن سے یہ زردی چھوٹ کر لگ گئی)، فرمایا:''اﷲتعالیٰ تمھارے لیے مبارک کرے، تم ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے یا ایک ہی بکری سے۔''(2)
حدیث ۲: بخاری و مسلم نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے جتنا حضرت زینبرضی اللہ تعالٰی عنہا کے نکاح پر ولیمہ کیا، ایسا ولیمہ ازواجِ مطہرات میں سے کسی کا نہیں کیا۔ ایک بکری سے ولیمہ کیا۔ (3)یعنی تمام ولیموں میں یہ بہت بڑا ولیمہ تھا کہ ایک پوری بکری کا گوشت پکا تھا۔
صحیح بخاری شریف کی دوسری روایت انھیں سے ہے کہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالٰی عنہا کے زفاف کے بعد جو ولیمہ کیا تھا، لوگوں کو پیٹ بھر روٹی گوشت کھلایا تھا۔ (4)
حدیث ۳: صحیح بخاری میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں:خیبر سے واپسی میں خیبر و مدینہ کے مابین صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے زفاف کی وجہ سے تین راتوں تک حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے قیام فرمایا، میں مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت میں بُلالایا، ولیمہ میں نہ گوشت تھا، نہ روٹی تھی، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے حکم دیا، دسترخوان بچھا دیے گئے، اُس پر کجھوریں اور پنیر اور گھی ڈال دیا گیا۔ (5)
امام احمد و ترمذی و ابو داودو ابن ماجہ کی روایت میں ہے، کہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجوریں تھیں۔ (6)