Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
387 - 660
مسائل فقہیہ
    مسئلہ ۱: پانی بسم اﷲ کہہ کر دہنے ہاتھ سے پیے اور تین سانس میں پیے، ہر مرتبہ برتن کو مونھ سے ہٹا کر سانس لے ۔ پہلی اور دوسری مرتبہ ایک ایک گھونٹ پیے اور تیسری سانس میں جتنا چاہے پی ڈالے ۔اس طرح پینے سے پیاس بجھ جاتی ہے اور پانی کو چوس کر پیے، غٹ غٹ بڑے بڑے گھونٹ نہ پیے، جب پی چکے الحمدللہ کہے۔

    اس زمانہ میں بعض لوگ بائیں ہاتھ میں کٹورا یا گلاس لے کر پانی پیتے ہیں خصوصاً کھانے کے وقت دہنے ہاتھ سے پینے کو خلافِ تہذیب جانتے ہیں ان کی یہ تہذیب تہذیبِ نصاریٰ ہے۔ اسلامی تہذیب دہنے ہاتھ سے پینا ہے۔

     آجکل ایک تہذیب یہ بھی ہے کہ گلاس میں پینے کے بعد جو پانی بچا اسے پھینک دیتے ہیں کہ اب وہ پانی جھوٹا ہوگیا جو دوسرے کو نہیں پلایا جائے گا، یہ ہندوؤں سے سیکھا ہے اسلام میں چھوت چھات نہیں، مسلمان کے جھوٹے سے بچنے کے کوئی معنی نہیں اور اس علت سے پانی کو پھینکنا اسراف ہے۔ 

    مسئلہ ۲: مشک کے دہانے میں مونھ لگا کر پانی پینا مکروہ ہے۔ کیا معلوم کوئی مضر (1)چیز اس کے حلق میں چلی جائے۔ (2) (عالمگیری)اسی طرح لوٹے کی ٹونٹی سے پانی پینا مگر جبکہ لوٹے کو دیکھ لیا ہو کہ اس میں کوئی چیز نہیں ہے۔ صراحی میں مونھ لگا کر پانی پینے کا بھی یہی حکم ہے۔ 

    مسئلہ ۳: سبیل کا پانی مالدار شخص بھی پی سکتا ہے مگر وہاں سے پانی کوئی شخص گھر نہیں لے جاسکتا۔ کیونکہ وہاں پینے کے لیے پانی رکھا گیا ہے نہ کہ گھر لے جانے کے لیے۔ ہاں اگر سبیل لگانے والے کی طرف سے اس کی اجازت ہو تو لے جاسکتا ہے۔ (3) (عالمگیری)جاڑوں (4)میں اکثر جگہ مسجد کے سقایہ میں پانی گرم کیا جاتا ہے تاکہ مسجد میں جو نمازی آئیں، اس سے وضو و غسل کریں، یہ پانی بھی وہیں استعمال کیا جاسکتا ہے گھر لے جانے کی اجازت نہیں۔ اسی طرح مسجد کے لوٹوں کو بھی وہیں استعمال کرسکتے ہیں گھر نہیں لے جاسکتے، بعض لوگ تازہ پانی بھر کر مسجد کے لوٹوں میں گھر لے جاتے ہیں یہ بھی ناجائز ہے۔ 

    مسئلہ ۴: لوٹوں میں وضو کا پانی بچا ہوا ہوتا ہے اسے بعض لوگ پھینک دیتے ہیں، یہ ناجائز و اسراف ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ نقصان دہ۔ 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ، الباب الحادي عشر في الکراھۃ،ج۵،ص۳۴۱. 

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

4۔۔۔۔۔۔ سردیوں۔
Flag Counter