حدیث ۱۸: ابن ماجہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی، کہ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے پیٹ کے بل جھک کر پانی میں مونھ ڈال کر پینے سے منع فرمایا اور نہ ایک ہاتھ سے چلو لے کر پیے جیسے وہ لوگ پیتے ہیں، جن پر خدا ناراض ہے اور رات میں جب کسی برتن میں پانی پیے تو اسے ہلا لے، مگر جبکہ وہ برتن ڈھکا ہو تو ہلانے کی ضرورت نہیں اور جو شخص برتن سے پینے پر قادر ہے اور تواضع کے طور پر ہاتھ سے پیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھتا ہے جتنی اس کے ہاتھ میں انگلیاں ہیں۔ ہاتھ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا برتن تھا کہ انھوں نے اپنا پیالہ بھی پھینک دیا اور یہ کہا کہ یہ بھی دنیا کی چیز ہے۔'' (1)
حدیث ۱۹: ابن ماجہ نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''ہاتھوں کو دھوؤ اور ان میں پانی پیو کہ ہاتھ سے زیادہ پاکیزہ کوئی برتن نہیں۔'' (2)
حدیث ۲۰: مسلم و احمد وترمذی نے ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''ساقی (جو لوگوں کو پانی پلارہا ہے)وہ سب کے آخر میں پیے گا۔'' (3)
حدیث ۲۱: دیلمی نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا: ''پانی کو چوس کر پیو کہ یہ خوش گوار اور زود ہضم ہے اور بیماری سے بچاؤ ہے۔''(4)
حدیث ۲۲: ابن ماجہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، انھوں نے کہا یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کس چیز کا منع کرنا حلال نہیں؟ فرمایا:''پانی اور نمک اور آگ۔''کہتی ہیں:میں نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)پانی کو تو ہم نے سمجھ لیا، مگر نمک اور آگ کا منع کرنا کیوں حلال نہیں؟ فرمایا:''اے حمیراء!جس نے آگ دے دی گویا اس نے اُس پورے کو صدقہ کیا جو آگ سے پکایا گیااور جس نے نمک دے دیا گویا اُس نے تمام اُس کھانے کو صدقہ کیا جو اس نمک سے درست کیا گیا اور جس نے مسلمان کو اُس جگہ پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی ملتا ہے تو گویا گردن کو آزاد کیا (5)اور جس نے مسلم کو ایسی جگہ پانی کا گھونٹ پلایا جہاں پانی نہیں ملتا ہے تو گویا اُسے زندہ کردیا۔''(6)