پیا پھر دوبارہ انھوں نے پانی لے کر دودھ دوہا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے ساتھی نے پیا۔ (1)
حدیث ۱۴: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے لیے بکری کا دودھ دوہا گیا اور انس کے گھر میں جو کوآں تھا، اس کا پانی اس میں ملایا گیا یعنی لسی بنائی گئی پھر حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے نوش فرمایا۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی بائیں طرف ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ تھے اور د ہنی طرف ایک اعرابی تھے، حضرت عمر (رضی اللہ تعالٰی عنہ)نے عرض کی، یارسول اﷲ!(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ابوبکر (رضی اللہ تعالٰی عنہ)کو دیجیے، حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اعرابی کو دیا کیونکہ یہ د ہنی جانب تھے اور ارشاد فرمایا:''دہنا مستحق ہے پھر ا سکے بعد جو دہنے ہو، دہنے کو مقدم رکھا کرو۔'' (2)
حدیث ۱۵: بخاری و مسلم میں سہل بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں پیالہ پیش کیا گیا، حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے نوش فرمایا، حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی د ہنی جانب سب سے چھوٹے ایک شخص تھے (عبداﷲبن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما)اور بڑے بڑے اصحاب بائیں جانب تھے۔ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''لڑکے اگر تم اجازت دو تو بڑوں کو دے دوں۔'' انہوں نے عرض کی، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کے اولش (3)میں دوسروں کو اپنے پر ترجیح نہیں دوں گا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ان کو دے دیا۔ (4)
حدیث ۱۶: صحیح بخاری و مسلم میں حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں:''حریر اور دیباج نہ پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پیو اور نہ ان کے برتنوں میں کھانا کھاؤ کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لیے ہیں اور تمھارے لیے آخرت میں ہیں۔'' (5)
حدیث ۱۷: ترمذی نے زہری سے روایت کی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو پینے کی وہ چیز زیادہ پسند تھی جوشیریں اور ٹھنڈ ی ہو۔ (6)