Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
382 - 660
اور بعض کی ویسی نہیں۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۵: کھانا کھانے کے بعد خلال کرنے میں جو کچھ دانتوں میں سے ریشہ وغیرہ نکلا بہتر ہے کہ اسے پھینک دے اور نگل گیا تو اس میں بھی حرج نہیں اور خلال کا تنکا یا جو کچھ خلال سے نکلا اس کو لوگوں کے سامنے نہ پھینکے ،بلکہ اسے لیے رہے جب اس کے سامنے طشت (2)آئے، اس میں ڈال دے پھول اور میوہ کے تنکے سے خلال نہ کرے۔ (3) (عالمگیری)

    خلال کے لیے نیم کی سینک بہت بہتر ہے کہ اس کی تلخی سے مونھ کی صفائی ہوتی ہے اور یہ مسوڑوں کے لیے بھی مفید ہے جھاڑو کی سینکیں(4)بھی اس کام میں لاسکتے ہیں جبکہ وہ کوری ہوں مستعمل نہ ہوں۔
پانی پینے کا بیان
    حدیث ۱: صحیح بخاری و مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے  روایت ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم پانی پینے میں تین بار سانس لیتے تھے ۔''(5) 

    اور مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے، کہ فرماتے تھے کہ ''اس طرح پینے میں زیادہ سیرابی ہوتی ہے اور صحت کے لیے مفید اور خوشگوار ہے۔''(6) 

    حدیث ۲: ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''ایک سانس میں پانی نہ پیو جیسے اونٹ پیتا ہے، بلکہ دو اور تین مرتبہ میں پیو اور جب پیو تو بسم اﷲکہہ لو اور جب برتن کو مونھ سے ہٹاؤ تواﷲ(عزوجل)کی حمد کرو۔''(7) 

    حدیث ۳: ابو داود وابن ماجہ نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے برتن میں سانس لینے اور پھونکنے سے منع فرمایا۔ (8)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۴۱. 

2۔۔۔۔۔۔ یعنی ہاتھ دھونے کا برتن، تھال۔ 

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثاني عشر في الھدایا والضیافات،ج۵،ص۳۴۵. 

4۔۔۔۔۔۔ یعنی جھاڑو کی تیلیاں۔ 

5۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب کراھۃ التنفس في نفس الاناء...إلخ، الحدیث:۱۲۳۔(۲۰۲۸)،ص۱۱۲۰.

6۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.

7۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الاشربۃ،باب ماجاء في التنفس في الاناء، الحدیث:۱۸۹۲،ج۳،ص۳۵۲.

8۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأشربۃ،باب في النفخ في الشراب...إلخ، الحدیث: ۳۷۲۸،ج۳ص۴۷۴.
Flag Counter