Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
381 - 660
    مسئلہ ۲۹: خریف (1)کے موسم میں درختوں کے پتے گرجاتے ہیں، اگر وہ پتے کام کے ہوں تو اٹھا لانا ناجائز ہے اور مالک کے لیے بیکار ہوں جیسا کہ ہمارے ملک میں باغات میں پتے گرجاتے ہیں اور مالک ان کو کام میں نہیں لاتا، بھاڑ (2) جلانے والے اٹھا لاتے ہیں ایسے پتوں کو اٹھا لانے میں حرج نہیں۔ (3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۰: دوست کے گھر گیا جو چیز پکی ہوئی ملی، خود لے کر کھالی یا اس کے باغ میں گیا اور پھل توڑ کر کھالیے، اگر معلوم ہے کہ اسے ناگوار نہ ہوگا تو کھانا جائز ہے، مگر یہاں اچھی طرح غور کرلینے کی ضرورت ہے بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے ناگوار نہ ہوگا حالانکہ اسے ناگوار ہے۔ (4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۱: روٹی کو چھری سے کاٹنا نصاریٰ کا طریقہ ہے، مسلمانوں کو اس سے بچنا چاہیے۔ ہاں اگر ضرورت ہو، مثلاً ڈبل روٹی کہ چھری سے کاٹ کر اس کے ٹکڑے کرلیے جاتے ہیں تو حرج نہیں یا دعوتوں میں بعض مرتبہ ہر شخص کو نصف نصف شیرمال دی جاتی ہے، ایسے موقع پر چھری سے کاٹ کر ٹکڑے بنانے میں حرج نہیں کہ یہاں مقصود دوسرا ہے۔ اسی طرح اگرمُسلّم ران بھنی ہوئی ہو اور چھری سے کاٹ کر کھائی جائے تو حرج نہیں۔ 

    مسئلہ ۳۲: مسلمانوں کے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ فرش وغیرہ پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں، میز کرسی پر کھانا نصاریٰ کا طریقہ ہے، اس سے اجتناب چاہیے بلکہ مسلمانوں کو ہر کام سلف صالحین کے طریقہ پر کرنا چاہیے، غیروں کے طریقہ کو ہر گز اختیار نہ کرنا چاہیے۔ 

    مسئلہ ۳۳: خمیری روٹی پکوانے میں نانبائی (5)سے خمیر لے لیتے ہیں پھر ان کے آٹے میں سے اسی انداز سے نانبائی لے لیتا ہے اس میں حرج نہیں۔ (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۴: بہت سے لوگوں نے چندہ کرکے کھانے کی چیز طیار کی اور سب مل کر اسے کھائیں گے، چندہ سب نے برابر دیا ہے اور کھانا کوئی کم کھائے گا کوئی زیادہ اس میں حرج نہیں۔ اسی طرح مسافروں نے اپنے توشے اور کھانے کی چیزیں ایک ساتھ مل کر کھائیں اس میں بھی حرج نہیں، اگرچہ کوئی کم کھائے گا کوئی زیادہ یا بعض کی چیزیں اچھی ہیں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ یعنی خزاں۔         2۔۔۔۔۔۔ بھٹی،تنور۔ 

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۴۰. 

4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.

5۔۔۔۔۔۔ یعنی روٹی پکانے والا۔

6۔۔۔۔۔۔
Flag Counter