(۱۰) بسم اﷲ بلند آواز سے کہے کہ ساتھ والوں کو اگر یاد نہ ہو تو اس سے سن کر انھیں یاد آجائے اور الحمد ﷲ آہستہ کہے۔ مگر جب سب لوگ فارغ ہوچکے ہوں تو الحمدﷲ بھی زور سے کہے کہ دوسرے لوگ سن کر شکر خدا بجا لائیں۔
(۱۱) روٹی پر کوئی چیز نہ رکھی جائے، بعض لوگ سالن کا پیالہ یا چٹنی کی پیالی یا نمک دانی رکھ دیتے ہیں، ایسا نہ کرنا چاہیے نمک اگر کاغذ میں ہے تو اسے روٹی پر رکھ سکتے ہیں۔
(۱۲) ہاتھ یا چھری کو روٹی سے نہ پونچھیں۔
(۱۳) تکیہ لگا کر یا
(۱۴) ننگے سر کھانا ادب کے خلاف ہے۔
(۱۵) بائیں ہاتھ کو زمین پر ٹیک دے کر کھانا بھی مکروہ ہے۔
(۱۶) روٹی کا کنارہ توڑ کر ڈال دینا اور بیچ کی کھا لینا اسراف ہے، بلکہ پوری روٹی کھائے، ہاں اگر کنارے کچے رہ گئے ہیں، اس کے کھانے سے ضرر ہوگا تو توڑ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر معلوم ہے کہ یہ ٹوٹے ہوئے دوسرے لوگ کھا لیں گے، ضائع نہ ہوں گے تو توڑنے میں حرج نہیں۔ یہی حکم اس کا بھی ہے کہ روٹی میں جو حصہ پھولا ہوا ہے اسے کھا لیتا ہے، باقی کو چھوڑ دیتا ہے۔
(۱۷) روٹی جب دسترخوان پر آگئی تو کھانا شروع کردے سالن کا انتظار نہ کرے، اسی لیے عموماً دسترخوان پر روٹی سب سے آخر میں لاتے ہیں تاکہ روٹی کے بعد انتظار نہ کرنا پڑے۔
(۱۸) دہنے ہاتھ سے کھانا کھائے۔
(۱۹) ہاتھ سے لقمہ چھوٹ کر دسترخوان پر گرگیا، اسے چھوڑ دینا اسراف ہے بلکہ پہلے اس کو اٹھا کر کھائے۔
(۲۰) رکابی یا پیالے کے بیچ میں سے ابتداءً نہ کھائے ،بلکہ ایک کنارہ سے کھائے اور
(۲۱) جوکنارہ اس کے قریب ہے، وہاں سے کھائے۔