Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
376 - 660
ہوتا ہے، وہ بھی گوشت میں کمی کردیں۔ 

    مسئلہ ۱۳: ایک قسم کا کھانا ہو گاتو بقدر حاجت نہ کھاسکے گا طبیعت گھبراجائے گی، لہٰذا کئی قسم کے کھانے طیار کراتا ہے کہ سب میں سے کچھ کچھ کھا کر ضرورت پوری کرلے گا اس مقصد کے لیے متعدد قسم کے کھانے میں حرج نہیں یا اس لیے بہت سے کھانے پکواتا ہے کہ لوگوں کی ضیافت کرنی ہے، وہ سب کھانے صرف ہوجائیں گے تو اس میں بھی حرج نہیں اور یہ مقصود نہ ہو تو اسراف ہے۔ (1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۴: کھانے کے آداب و سنن یہ ہیں۔ 

    (۱) کھانے سے پہلے اور 

    (۲) بعدمیں ہاتھ دھونا

    (۳) کھانے سے پہلے ہاتھ دھو کر پونچھے نہ جائیں اور 

    (۴) کھانے کے بعد ہاتھ دھو کر رومال یا تولیا سے پونچھ لیں کہ کھانے کا اثر باقی نہ رہے۔ (2) 

    مسئلہ ۱۵: سنت یہ ہے کہ قبل طعام  اور بعد طعامدونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئے جائیں، بعض لوگ صرف ایک ہاتھ یا فقط انگلیاں دھولیتے ہیں بلکہ صرف چٹکی دھونے پر کفایت کرتے ہیں اس سے سنت ادا نہیں ہوتی۔ (3) (عالمگیری)

    مسئلہ ۱۶: مستحب یہ ہے کہ ہاتھ دھوتے وقت خود اپنے ہاتھ سے پانی ڈالے، دوسرے سے اس میں مدد نہ لے یعنی اس کا وہی حکم ہے جو وضو کا ہے۔ (4) (عالمگیری) 

    (۵) کھانے کے بعد اچھی طرح ہاتھ دھوئیں، کہ کھانے کا اثر باقی نہ رہے، بھوسی یا آٹے یا بیسن سے ہاتھ دھونے میں حرج نہیں۔ اس زمانے میں صابون سے ہاتھ دھونے کا رواج ہے اس میں بھی حرج نہیں، کھانے کے لیے مونھ دھونا سنت نہیں یعنی اگر کسی نے نہ دھویا تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے سنت ترک کردی، ہاں جُنب نے اگر مونھ نہ دھویا تو مکروہ ہے اور حیض والی کا بغیر دھوئے کھانا مکروہ نہیں۔ 

    (۶) کھانے سے قبل جوانوں کے ہاتھ پہلے دھلائے جائیں اور کھانے کے بعد پہلے بوڑھوں کے ہاتھ دھلائے جائیں، اس کے بعد جوانوں کے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۳۶. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،ص۳۳۷.         3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۳۷.
Flag Counter