(۲۲) جب کھانا ایک قسم کا ہو تو ایک جگہ سے کھائے ہر طرف ہاتھ نہ مارے۔ ہاں اگر طباق میں مختلف قسم کی چیزیں لاکر رکھی گئیں، ادھر ادھر سے کھانے کی اجازت ہے کہ یہ ایک چیز نہیں۔
(۲۳) کھانے کے وقت بایاں پاؤں بچھا دے اور داہنا کھڑا رکھے یا سرین پر بیٹھے اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھے۔
(۲۴) گرم کھانا نہ کھائے اور
(۲۵) نہ کھانے پر پھونکے ۔
(۲۶) نہ کھانے کو سونگھے ۔
(۲۷) کھانے کے وقت باتیں کرتا جائے، بالکل چپ رہنا مجوسیوں (1)کا طریقہ ہے، مگر بیہودہ باتیں نہ بکے بلکہ اچھی باتیں کرے۔
(۲۸) کھانے کے بعد انگلیاں چاٹ لے، ان میں جھوٹا نہ لگا رہنے دے اور
(۲۹) برتن کو اونگلیوں سے پونچھ کر چاٹ لے۔ حدیث میں ہے، ''کھانے کے بعد جو شخص برتن چاٹتا ہے تو وہ برتن اس کے لیے دعا کرتا ہے۔ کہتا ہے کہ اﷲ(عزوجل)تجھے جہنم کی آگ سے آزاد کرے جس طرح تو نے مجھے شیطان سے آزاد کیا۔''(2)اور ایک روایت میں ہے، ''برتن اس کے لیے استغفار کرتا ہے۔''(3)
(۳۰) کھانے کی ابتدا نمک سے کی جائے اور
(۳۱) ختم بھی اسی پر کریں، اس سے ستر بیماریاں دفع ہوجاتی ہیں۔ (4) (بزازیہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۷: راستہ اور بازار میں کھانا مکروہ ہے۔ (5)
مسئلہ ۱۸: دسترخوان پر روٹی کے ٹکڑے جمع ہوگئے اگر کھانا ہے تو کھالے ورنہ مرغی، گائے، بکری وغیرہ کو کھلادے یا کہیں احتیاط کی جگہ پر رکھ دے، کہ چیونٹیاں یا چڑیاں کھالیں گی راستہ پر نہ پھینکے۔ (6) (بزازیہ)