| بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16) |
کہ عبادت کی قوت پیدا ہو (1)کہ اس نیت سے کھانا ایک قسم کی طاعت ہے۔ کھانے سے اس کا مقصود تلذذ و تنعم نہ ہو (2)کہ یہ بری صفت ہے۔
قرآن مجید میں کفار کی صفت یہ بیان کی گئی ، کہ کھانے سے ان کا مقصود تمتع و تنعم (3)ہوتا ہے اور حدیث میں کثرت خوری کفار کی صفت بتائی گئی۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: ریاضت و مجاہدہ میں ایسی تقلیل غذا (5)کہ عبادت مفروضہ (6)کی ادا میں ضعف پیدا ہوجائے، مثلاً اتنا کمزور ہوگیا کہ کھڑا ہو کر نماز نہ پڑھ سکے گا یہ ناجائز ہے اور اگر اس حد کی کمزوری نہ پیدا ہو تو حرج نہیں۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۱۰: زیادہ کھالیا اس لیے کہ قے کر ڈالے گا اور یہ صور ت اس کے لیے مفید ہو تو حرج نہیں کیونکہ بعض لوگوں کے لیے یہ طریقہ نافع ہوتا ہے۔ (8) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: طرح طرح کے میوے کھانے میں حرج نہیں، اگرچہ افضل یہ ہے کہ ایسا نہ کرے۔ (9) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: جوان آدمی کو یہ اندیشہ ہے کہ سیر ہو کر کھائے گا تو غلبہ شہوت ہوگا تو کھانے میں کمی کرے کہ غلبہ شہوت نہ ہو، مگر اتنی کمی نہ کرے کہ عبادت میں قصور پیدا ہو۔ (10) (عالمگیری)اسی طرح بعض لوگوں کو گوشت کھانے سے غلبہ شہوتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ مزید نیتوں کے لیے امیرِ اہلسنّت، حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی کی طرف سے فیضانِ سنت(تخریج شدہ)میں بیان کردہ کھانے کی 7 نیتیں پیشِ خدمت ہیں: (۱) تِلاوت۔ (۲) والدین کی خدمت۔ (۳) تحصیلِ عِلمِ دین۔ (۴) سنّتوں کی تربیّت کی خاطِر مَدَنی قافِلے میں سفر۔ (۵) عَلاقائی دَورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت۔ (۶) اُمورِ آخِرت اور (۷) حسبِ ضَرورت کسبِ حلال کیلئے بھاگ دوڑ پر قوّت حاصِل کروں گا (یہ نِیّتیں اُسی صورت میں مُفید ہوں گی جبکہ بھوک سے کم کھائے، خوب ڈٹ کر کھانے سے اُلٹا عبادت میں سُستی پیدا ہوتی، گناہوں کی طرف رُجحان بڑھتا اور پیٹ کی خرابیاں جَنَم لیتی ہیں) (ماخوذ از: فیضان سنت (تخریج شدہ) ج۱،ص۱۸۲) 2۔۔۔۔۔۔ یعنی صرف حصول لذت اور خواہش کی تکمیل کے لیے نہ ہو۔ 3۔۔۔۔۔۔ یعنی صرف لطف و لذت اٹھانا۔ 4۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۰. 5۔۔۔۔۔۔ یعنی کھانے میں کمی کرنا۔ 6۔۔۔۔۔۔ یعنی فرض کی ہوئی عبادت۔ 7۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۱. 8۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۱. 9۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۱. 10۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الحادي عشر في الکراھیۃ،ج۵،ص۳۳۶.