Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
374 - 660
    مسئلہ ۳: دوسرے کے پاس کھانے پینے کی چیز ہے ،تو قیمت سے خرید کر کھا پی لے وہ قیمت سے بھی نہیں دیتا اور اس کی جان پر بنی ہے ،تو اس سے زبردستی چھین لے اور اگر اس کے لیے بھی یہی اندیشہ ہے تو کچھ لے لے اور کچھ اس کے لیے چھوڑ دے۔ (1) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۴: ایک شخص اضطرار کی حالت میں ہے دوسرا شخص اس سے یہ کہتا ہے کہ تم میرا ہاتھ کاٹ کر اس کا گوشت کھالو۔ اس کے لیے اس گوشت کے کھانے کی اجازت نہیں ہے، یعنی انسان کا گوشت کھانا اس حالت میں بھی مباح نہیں۔(2) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۵: کھانے پینے پر دوا اور علاج کو قیاس نہ کیا جائے، یعنی حالتِ اضطرار میں مردار اور شراب کو کھانے پینے کا حکم ہے، مگر دوا کے طور پر شراب جائز نہیں کیونکہ مردار کا گوشت اور شراب یقینی طور پر بھوک اور پیاس کا دفعیہ ہے اور دوا کے طورپر شراب پینے میں یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا کہ مرض کا ازالہ ہی ہوجائے گا۔ (3) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۶: بھوک سے کم کھانا چاہیے اور پوری بھوک بھر کر کھانا کھا لینا مباح ہے یعنی نہ ثواب ہے نہ گناہ، کیونکہ اس کا بھی صحیح مقصد ہوسکتا ہے کہ طاقت زیادہ ہوگی اور بھوک سے زیادہ کھالینا حرام ہے۔ زیادہ کا یہ مطلب ہے کہ اتنا کھالینا جس سے پیٹ خراب ہونے کا گمان ہے، مثلاً دست آئیں گے اور طبیعت بدمزہ ہوجائے گی۔ (4) (درمختار) 

    مسئلہ ۷: اگر بھوک سے کچھ زیادہ اس لیے کھالیا کہ کل کا روزہ اچھی طرح رکھ سکے گاروزہ میں کمزوری نہیں پیدا ہوگی توحرج نہیں، جبکہ اتنی ہی زیادتی ہو جس سے معدہ خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو اور معلوم ہے کہ زیادہ نہ کھایا تو کمزوری ہوگی، دوسرے کاموں میں دقت ہوگی۔ یوہیں اگر مہمان کے ساتھ کھا رہا ہے اور معلوم ہے کہ یہ ہاتھ روک دے گا تو مہمان شرما جائے گا اور سیر ہو کر نہ کھائے گا تو اس صورت میں بھی کچھ زیادہ کھالینے کی اجازت ہے۔ (5) (درمختار) 

    مسئلہ ۸: سیر ہو کر کھانا اس لیے کہ نوافل کثرت سے پڑھ سکے گا اور پڑھنے پڑھانے میں کمزوری پیدا نہ ہوگی، اچھی طرح اس کام کو انجام دے سکے گا یہ مندوب ہے اور سیری سے زیادہ کھایا مگر اتنا زیادہ نہیں کہ شکم خراب ہوجائے یہ مکروہ ہے۔ عبادت گزار شخص کو یہ اختیار ہے کہ بقدر مباح تناول کرے یا بقدر مندوب، مگر اسے یہ نیت کرنی چاہیے کہ اس کے لیے کھاتا ہوں
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۵۹. 

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.         3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الحظر والإباحۃ،ج۹،ص۵۶۰. 

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،ص۵۶۱.
Flag Counter