Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
372 - 660
    حدیث ۶۱: ابن ماجہ نے اسما بنتِ یزید رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں کھانا حاضر لایا گیا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ہم پر پیش فرمایا، ہم نے کہا ہمیں خواہش نہیں ہے۔ فرمایا: ''بھوک اور جھوٹ دونوں چیزوں کو اکٹھا مت کرو۔''(1) 

    یعنی بھوک کے وقت کوئی کھانا کھلائے تو کھالے یہ نہ کہے کہ بھوک نہیں ہے کہ کھانا بھی نہ کھانا اور جھوٹ بھی بولنا دنیا و آخرت دونوں کا خسارہ ہے۔ بعض تکلف کرنے والے ایسا کیا کرتے ہیں اور بہت سے دیہاتی اس قسم کی عادت رکھتے ہیں کہ جب تک ان سے بار بار نہ کہا جائے، کھانے سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں خواہش نہیں ہے، جھوٹ بولنے سے بچنا ضروری ہے۔ 

    حدیث ۶۲: صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ایک روز رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم باہر تشریف لائے اور ابوبکر و عمررضی اللہ تعالٰی عنہماملے، ارشاد فرمایا:کیا چیز تمھیں اس وقت گھر سے باہر لائی؟ عرض کی، بھوک۔ فرمایا:قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!جو چیز تمھیں گھر سے باہر لائی، وہی مجھے بھی لائی۔ ارشاد فرمایا:اُٹھو!وہ لوگ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور ایک انصاری کے یہاں تشریف لے گئے، دیکھا تو وہ گھر میں نہیں ہیں، انصاری کی بی بی نے جُوہیں ان حضرات کو دیکھا مرحبا و اہلاً کہا، حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے دریافت فرمایاکہ فلاں شخص کہاں ہے؟ کہا کہ میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ 

    اتنے میں انصاری آگئے۔حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو اور شیخین کو دیکھ کر کہا، الحمد للہ آج مجھ سے بڑھ کر کوئی نہیں، جس کے یہاں ایسے معزز مہمان آئے ہوں پھر وہ کھجور کا ایک خوشہ لائے، جس میں ادھ پکی اور خشک کھجوریں بھی تھیں اور رطب بھی تھے اور ان حضرات سے کہا، کہ کھائیے اور خود چھری نکالی (یعنی بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا)حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:دودھ والی کو نہ ذبح کرنا۔ انصاری نے بکری ذبح کی، ان حضرات نے بکری کا گوشت کھایا اور کھجوریں کھائیں، پانی پیا۔ جب کھاپی کر فارغ ہوئے، ابوبکر و عمررضی اللہ تعالٰی عنہماسے فرمایاکہ ''قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!قیامت کے دن اس نعمت کا سوال ہوگا، تمھیں بھوک گھر سے لائی اور واپس ہونے سے پہلے یہ نعمت تم کو ملی۔''(2) 

    حدیث ۶۳: مسلم و ابو داود نے اُم سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''جو شخص چاندی یا سونے کے برتن میں کھاتا یا پیتا ہے، وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ اُتارتا ہے۔'' (3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب عرض الطعام، الحدیث:۳۲۹۸،ج۴،ص۲۶.

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب جواز استـتباعہ غیرہ...إلخ، الحدیث:۱۴۰۔(۲۰۳۸)،ص۱۱۲۵.

3۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب اللباس والزینۃ،باب تحریم إستعمال أوانی الذھب...إلخ، الحدیث:۱۔(۲۰۶۵)،ص۱۱۴۲.
Flag Counter