حدیث ۵۶: صحیح مسلم میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے پاس جب کھانا حاضر کیا جاتا تو تناول فرمانے کے بعد اس کا بقیہ (اولش)میرے پاس بھیج دیتے۔ ایک دن کھانے کا برتن میرے پاس بھیج دیا، اس میں سے کچھ نہیں تناول فرمایا تھا کیونکہ اس میں لہسن پڑا ہوا تھا۔ میں نے دریافت کیا، کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا:''نہیں، مگر میں بُو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں۔''میں نے عرض کی، جس کو حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ناپسند فرماتے ہیں، میں بھی ناپسند کرتا ہوں۔ (1)
حدیث ۵۷: صحیح بخاری و مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''جو شخص لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے علیحدہ رہے یا فرمایا:وہ ہماری مسجد سے علیحدہ رہے یا اپنے گھر میں بیٹھ جائے اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خدمت میں ایک ہانڈی پیش کی گئی، جس میں سبز ترکاریاں تھیں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایاکہ''بعض صحابہ کو پیش کردو اور ان سے فرمایاکہ تم کھالو، اس لیے کہ میں ان سے باتیں کرتا ہوں کہ تم ان سے باتیں نہیں کرتے۔''(2)یعنی ملائکہ سے۔
حدیث ۵۸: ترمذی و ابو داود نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے لہسن کھانے سے منع فرمایا، مگر یہ کہ پکا ہوا ہو۔ (3)
حدیث ۵۹: ترمذی نے اُم ہانی رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، کہتی ہیں کہ میرے یہاں حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) تشریف لائے، فرمایا:''کچھ تمھارے یہاں ہے۔ میں نے عرض کی، سوکھی روٹی اور سرکہ کے سوا کچھ نہیں، فرمایا: لاؤ، جس گھر میں سرکہ ہے، اس گھر والے سالن سے محتاج نہیں۔''(4)
حدیث ۶۰: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے گھر والوں سے سالن کو دریافت کیا۔ لوگوں نے کہا، ہمارے یہاں سرکہ کے سوا کچھ نہیں۔ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے اسے طلب فرمایا اور اس سے کھانا شروع کیا اور بار بار فرمایاکہ ''سرکہ اچھا سالن ہے۔''(5)