پانی اور ایک تہائی ہوا اور سانس کے لیے رکھو۔''(1)
حدیث ۵۱: ترمذی و ابن ماجہ نے مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ ''آدمی نے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا۔ ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جواس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں۔ اگر زیادہ کھانا ضروری ہو تو تہائی پیٹ کھانے کے لیے اور تہائی پانی کے لیے اور تہائی سانس کے لیے۔''(2)
حدیث ۵۲: ترمذی نے ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایک شخص کی ڈکار کی آواز سنی، فرمایا:''اپنی ڈکار کم کر، اس لیے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ بھوکا وہ ہوگا جو دنیا میں زیادہ پیٹ بھرتا ہے۔''(3)
حدیث ۵۳: صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو کھجور کھاتے دیکھا اور حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) سرین پر اس طرح بیٹھے تھے کہ دونوں گھٹنے کھڑے تھے۔ (4)
حدیث ۵۴: صحیح بخاری و مسلم میں ابن عمررضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت ہے، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے دو کھجوریں ملا کر کھانے سے منع فرمایا، جب تک ساتھ والے سے اجازت نہ لے لے۔ (5)
حدیث ۵۵: صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے مروی، کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''جن کے یہاں کھجوریں ہیں، اس گھر والے بھوکے نہیں۔''(6)دوسری روایت میں یہ ہے، کہ ''جس گھر میں کھجوریں نہ ہوں، اس گھر والے بھوکے ہیں۔''(7)
یہ اس زمانے اور اس ملک کے لحاظ سے ہے کہ وہاں کھجوریں بکثرت ہوتی ہیں اور جب گھر میں کھجوریں ہیں تو بال بچوں اور گھر والوں کے لیے اطمینان کی صورت ہے کہ بھوک لگے گی تو انھیں کھالیں گے، بھوکے نہیں رہیں گے۔