نہیں تناول فرمایا، نہ چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں کھایا اور نہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کے لیے پتلی چپاتیاں پکائی گئیں۔
دوسری روایت میں یہ ہے، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے پتلی چپاتی دیکھی بھی نہیں۔ قتادہ سے پوچھا گیا کہ کس چیز پر وہ لوگ کھانا کھایا کرتے تھے؟ کہا کہ دسترخوان پر۔ (1)
خوان تپائی کی طرح اونچی چیز ہوتی ہے، جس پر امراء کے یہاں کھانا چنا جاتا ہے تاکہ کھاتے وقت جھکنا نہ پڑے، اس پر کھانا کھانا متکبرین کا طریقہ تھا۔ جس طرح بعض لوگ اس زمانہ میں میز پر کھاتے ہیں، چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں کھانا کھانا بھی امراء کا طریقہ ہے کہ ان کے یہاں مختلف قسم کے کھانے ہوتے ہیں، چھوٹے چھوٹے برتنوں میں رکھے جاتے ہیں۔
حدیث ۴۶: صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے کھانے کو کبھی عیب نہیں لگایا(یعنی بُرا نہیں کہا)، اگر خواہش ہوئی کھا لیا ورنہ چھوڑ دیا۔ (2)
حدیث ۴۷: صحیح مسلم میں جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں کہ ''ایک شخص کا کھانا، دو ۲ کے لیے کفایت کرتاہے اور دو ۲ کا کھانا، چار کے لیے کفایت کرتا ہے اور چار کا کھانا، آٹھ کو کفایت کرتا ہے۔''(3)
حدیث ۴۸: صحیح بخاری میں مقدام بن معدیکرب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایاکہ ''اپنے اپنے کھانے کو ناپ لیا کرو، تمھارے لیے اس میں برکت ہوگی۔''(4)
حدیث ۴۹: ابن ماجہ و ترمذی و دارمی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں ایک برتن میں ثرید پیش کیا گیا۔ ارشاد فرمایاکہ ''کناروں سے کھاؤ، بیچ میں سے نہ کھاؤ کہ بیچ میں برکت اترتی ہے۔''(5)ثرید ایک قسم کا کھانا ہے، روٹی توڑ کر شوربے میں مَل دیتے ہیں۔ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو یہ کھانا پسند تھا۔
حدیث ۵۰: طبرانی نے عبدالرحمن بن موقع سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''کوئی ظرف (6)جو بھرا جائے، پیٹ سے زیادہ برا نہیں اگر تمھیں پیٹ میں کچھ ڈالنا ہی ہے تو ایک تہائی میں کھانا ڈالو اور ایک تہائی میں