Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
368 - 660
آگ سے پکائی گئی ہو، اس کے کھانے کے بعد یہ وضو ہے۔''(1) 

    حدیث ۴۱: ترمذی و ابو داودو ابن ماجہ نے ابوہریرہ (رضی اللہ تعالٰی عنہ)سے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جب کسی کے ہاتھ میں چکنائی کی بُو ہو اور بغیر ہاتھ دھوئے سوجائے اور اس کو کچھ تکلیف پہنچ جائے تو وہ خود اپنے ہی کو ملامت کرے۔''(2)اسی کی مثل حضرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالٰی عنہاسے بھی مروی ہے۔ 

    حدیث ۴۲: حاکم نے ابو عبس بن جبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ ارشاد فرمایا:''کھانے کے وقت جوتے اتار لو کہ یہ سنتِ جمیلہ(اچھا طریقہ)ہے۔''(3)اور اَنس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی روایت میں ہے، کہ ''کھانا رکھا جائے تو جوتے اتار لو، کہ اس سے تمھارے پاؤں کے لیے راحت ہے۔''(4) 

    حدیث ۴۳: ابو داود عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا کہ (کھاتے وقت)گوشت کو چھری سے نہ کاٹو کہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، اس کو دانت سے نوچ کر کھاؤ کہ یہ خوش گوار اور زود ہضم ہے۔ (5) 

    یہ اس وقت ہے کہ گوشت اچھی طرح پک گیا ہو۔ ہاتھ یا دانت سے نوچ کر کھایا جاسکتا ہو۔ آج کل یورپ کی تقلید میں بہت سے مسلمان بھی چھری کانٹے سے کھاتے ہیں، یہ مذموم طریقہ ہے اور اگر بوجہ ضرورت چھری سے گوشت کاٹ کر کھایا جائے کہ گوشت اتنا گلا ہوا نہیں ہے کہ ہاتھ سے توڑا جاسکے یا دانتوں سے نوچا جاسکے یا مثلاً مسلّم ران بھنی ہوئی ہے کہ دانتوں سے نوچنے میں دقت ہوگی تو چھری سے کاٹ کر کھانے میں حرج نہیں، اسی قسم کے بعض مواقع پر حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا چھری سے گوشت کاٹ کر تناول فرمانا آیا ہے، اس سے آج کل کے چھری کانٹے سے کھانے کی دلیل لانا صحیح نہیں۔ 

    حدیث ۴۴: صحیح بخاری میں اَ بُوحُجَیْفَہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''میں تکیہ لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔''(6) 

    حدیث ۴۵: صحیح بخاری میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے خوان پر کھانا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن الترمذي''،کتاب الأطعمۃ،باب ماجاء في التسمیۃ،الحدیث:۱۸۵۵،ج۳،ص۳۳۵.

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب في غسل الید من الطعام،الحدیث:۳۸۵۲،ج۳،ص۵۱۴. 

3۔۔۔۔۔۔ ''المستدرک''للحاکم،کتاب معرفۃ الصحابۃ رضی اللہ عنھم،باب دعا النبی...إلخ، الحدیث:۵۵۵۰،ج۴،ص۴۲۳.

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن الدارمي''،کتاب الأطعمۃ،باب في خلع النعال عند الاکل، الحدیث:۲۰۸۰،ج۲،ص۱۴۸. 

5۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأطعمۃ،باب في أکل اللحم، الحدیث: ۳۷۷۸،ج۳ص۴۹۰. 

6۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الأطعمۃ،باب الأکل متکأاً، الحدیث:۵۳۹۸،ج۳،ص۵۲۸.
Flag Counter