اسی حدیث کی بناء پرعلما یہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کم خوراک ہو تو آہستہ آہستہ تھوڑا تھوڑا کھائے اور اس کے باوجود بھی اگر جماعت کا ساتھ نہ دے سکے تو معذرت پیش کرے تاکہ دوسروں کو شرمندگی نہ ہو۔
حدیث ۳۶: ترمذی وابو داود نے سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:میں نے تورات میں پڑھا تھا کہ کھانے کے بعد وضو کرنا یعنی ہاتھ دھونا اور کلی کرنا برکت ہے۔ اس کو میں نے نبی کر یم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے ذکر کیا، حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:''کھانے کی برکت اس کے پہلے وضو کرنا اور اس کے بعد وضو کرنا ہے ۔''(1) (اس حدیث میں وضو سے مراد ہاتھ دھونا ہے)۔
حدیث ۳۷: طبرانی ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی، کہ ارشاد فرمایا:''کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنا (ہاتھ مونھ دھونا)محتاجی کو دور کرتا ہے اور یہ مرسلین(علیہم السلام)کی سنتوں میں سے ہے۔''(2)
حدیث ۳۸: ابن ماجہ نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ فرمایا:''جو یہ پسند کرے کہ اﷲ تعالیٰ اس کے گھر میں خیر زیادہ کرے تو جب کھانا حاضر کیا جائے، وضو کرے اور جب اٹھایا جائے اس وقت وضو کرے ۔''(3) یعنی ہاتھ مونھ دھولے۔
حدیث ۳۹: ابن ماجہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کرتے ہیں، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے فرمایاکہ ''اکٹھے ہو کر کھاؤ، الگ الگ نہ کھاؤ کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔''(4)
حدیث ۴۰: ترمذی نے عکراش بن ذویب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہتے ہیں:ہمارے پاس ایک برتن میں بہت سی ثرید اور بوٹیاں لائیں گئیں۔ میرا ہاتھ برتن میں ہر طرف پڑنے لگا اور رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اپنے سامنے سے تناول فرمایا۔ پھر حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اپنے بائیں ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایاکہ عکراش ایک جگہ سے کھاؤ کہ یہ ایک ہی قسم کا کھانا ہے۔ ا سکے بعد طبق میں طرح طرح کی کھجوریں لائیں گئیں، میں نے اپنے سامنے سے کھانی شروع کیں اور رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کا ہاتھ مختلف جگہ طباق میں پڑتا۔
پھر فرمایاکہ عکراش جہاں سے چاہو کھاؤ،کہ یہ ایک قسم کی چیز نہیں۔ پھر پانی لایا گیا حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ہاتھ دھوئے اور ہاتھوں کی تری سے مونھ اور کلائیوں اور سر پر مسح کرلیا اور فرمایاکہ ''عکراش جس چیز کو آگ نے چھوا یعنی جو