Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
364 - 660
تھے، ان کے ہاتھ سے لقمہ گرگیا، انہوں نے اٹھا لیا اور صاف کرکے کھا لیا۔ یہ دیکھ کر گنواروں نے آنکھوں سے اشارہ کیا (کہ یہ کتنی حقیر و ذلیل بات ہے کہ گرے ہوئے لقمہ کو انھوں نے کھا لیا)کسی نے ان سے کہا، خدا امیر کا بھلا کرے (معقل بن یسار وہاں امیر وسردار کی حیثیت سے تھے)یہ گنوار کنکھیوں سے اشارہ کرتے ہیں کہ آپ نے گرا ہوا لقمہ کھا لیا اور آپ کے سامنے یہ کھانا موجود ہے۔ انھوں نے فرمایا ان عجمیوں کی وجہ سے میں اس چیز کو نہیں چھوڑ سکتا ہوں جو میں نے رسول اﷲصلَّی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا ہے، ہم کو حکم تھا کہ جب لقمہ گر جائے، اسے صاف کرکے کھا جائے، شیطان کے لیے نہ چھوڑ دے۔ (1)

    حدیث ۲۲: ابن ماجہ نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم مکان میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑ اپڑا ہوا دیکھا، اس کو لے کر پونچھا پھر کھالیا اور فرمایا:''عائشہ!اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی)جب کسی قوم سے بھاگی ہے تو لوٹ کر نہیں آئی۔''(2)یعنی اگر ناشکری کی وجہ سے کسی قوم سے رزق چلا جاتا ہے تو پھر واپس نہیں آتا۔ 

    حدیث ۲۳: طبرانی نے عبداﷲابن اُم حرام رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا کہ ''روٹی کا احترام کرو کہ وہ آسمان و زمین کی برکات سے ہے، جو شخص دسترخوان سے گری ہوئی روٹی کو کھا لے گا، اس کی مغفرت ہوجائے گی۔''(3) 

    حدیث ۲۴: دارمی نے اسما رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی، کہ جب ان کے پاس ثرید لایا جاتا تو حکم کرتیں کہ چھپا د یا جائے کہ اس کی بھاپ کا جوش ختم ہوجائے اور فرماتیں کہ میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم سے سنا ہے کہ اس سے برکت زیادہ ہوتی ہے۔ (4) 

    حدیث ۲۵: حاکم جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور ابو داود اسما رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کرتے ہیں، کہ ارشاد فرمایا:''کھانے کو ٹھنڈا کرلیا کرو کہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہے۔'' (5) 

    حدیث ۲۶: صحیح بخاری شریف میں ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے، کہ جب دسترخوان اٹھایا جاتا، اُس وقت نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم یہ پڑھتے:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّباً مُّبَارَکاً فِیْہِ غَیْرَ مَکْفِیٍّ وَلَا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب اللقمۃ إذا سقطت، الحدیث: ۳۲۷۸،ج۴،ص۱۷. 

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن ابن ماجہ''،کتاب الأطعمۃ،باب النھی عن إلقاء الطعام، الحدیث: ۳۳۵۳،ج۴،ص۴۹. 

3۔۔۔۔۔۔ ''الجامع الصغیر'' للسیوطي، الحدیث: ۱۴۲۶،ص۸۸. 

4۔۔۔۔۔۔ ''سنن الدارمي''،کتاب الأطعمۃ،باب النھی عن اکل الطعام الحار، الحدیث: ۲۰۴۷،ج۲،ص۱۳۷. 

5۔۔۔۔۔۔ ''المستدرک''للحاکم،کتاب الأطعمۃ،باب أبردوا الطعام الحار، الحدیث:۷۲۰۷،ج۵،ص۱۶۲.
Flag Counter