حدیث ۱۶: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے انگلیوں اور برتن کے چاٹنے کا حکم دیا اور یہ فرمایاکہ ''تمھیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔'' (1)
حدیث ۱۷: صحیح بخاری ومسلم میں عبداﷲ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے مروی، کہ نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''کھانے کے بعد ہاتھ کو نہ پونچھے، جب تک چاٹ نہ لے یا دوسرے کو چٹا نہ دے۔'' (2) یعنی ایسے شخص کو چٹا دے جو کراہت و نفرت نہ کرتا ہو، مثلاً تلامذہ و مریدین کہ یہ استاد و شیخ کے جھوٹے کو تبرک جانتے ہیں اور بڑی خوشی سے استعمال کرتے ہیں۔
حدیث ۱۸: امام احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے نُبیشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''جو کھانے کے بعد برتن کو چاٹ لے گا وہ برتن اس کے لیے استغفار کریگا۔''(3)
رزین کی روایت میں یہ بھی ہے، کہ وہ برتن یہ کہتا ہے کہ اﷲتعالیٰ تجھ کو جہنم سے آزاد کرے، جس طرح تو نے مجھے شیطان سے نجات دی۔ (4)
حدیث ۱۹: طبرانی نے ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے روایت کی، کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے کھانے اور پانی میں پھونکنے سے ممانعت فرمائی۔ (5)
حدیث ۲۰: صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: ''شیطان تمھارے ہر کام میں حاضر ہوجاتا ہے۔ کھانے کے وقت بھی حاضر ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اگر لقمہ گرجائے اور اس میں کچھ لگ جائے تو صاف کرکے کھا لے اسے شیطان کے لیے چھوڑ نہ دے اور جب کھانے سے فارغ ہو جائے تو انگلیاں چاٹ لے کیونکہ یہ معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصّے میں برکت ہے۔''(6)
حدیث ۲۱: ابن ماجہ نے حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ معقل بن یساررضی اللہ تعالٰی عنہ کھانا کھارہے