Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
359 - 660
یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ ﴿۳۲﴾قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالۡاِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیۡرِ الْحَقِّ وَ اَنۡ تُشْرِکُوۡا بِاللہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۳۳﴾

 )
(1) 

    ''اے بنی آدم!اپنی زینت لو، جب مسجد میں جاؤ اور کھاؤ اور پیو اور اسراف (زیادتی)نہ کرو، بے شک وہ اسراف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اے محبوب!تم فرمادو، کس نے حرام کی اﷲ(عزوجل)کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی اور ستھرا رزق، تم فرمادو کہ وہ ایمان والوں کے لیے ہے دنیا کی زندگی میں اور قیامت کے دن تو خاص انھیں کے لیے ہے، اسی طرح ہم تفصیل کے ساتھ اپنی آیتوں کو بیان کرتے ہیں علم والوں کے لیے۔ تم فرمادو کہ میرے رب(عزوجل)نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں جو ان میں ظاہر ہیں اور جو چھپی ہیں اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ کہ اﷲ(عزوجل)کا شریک کروجس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اُتاری اور یہ کہ اﷲ(عزوجل)پر وہ بات کہو جس کا تمھیں علم نہیں۔'' 

    اور فرماتا ہے:
    (لَیۡسَ عَلَی الْاَعْمٰی حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَی الْمَرِیۡضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمْ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا مِنۡۢ بُیُوۡتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اٰبَآئِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اُمَّہٰتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اِخْوَانِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اَخَوٰتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اَعْمَامِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ عَمّٰتِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ اَخْوَالِکُمْ اَوْ بُیُوۡتِ خٰلٰتِکُمْ اَوْ مَا مَلَکْتُمۡ مَّفَاتِحَہٗۤ اَوْ صَدِیۡقِکُمْ ؕ لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوْ اَشْتَاتًا ؕ)
 (2)

    ''نہ اندھے پر تنگی ہے اور نہ لنگڑے پر مضایقہ اور نہ بیمار پر حرج اور نہ تم میں کسی پر کہ کھاؤ اپنی اولاد کے گھر یا اپنے باپ کے گھر یا اپنی ماں کے گھر یا اپنے بھائیوں کے یہاں یا اپنی بہنوں کے یہاں یا اپنے چچاؤں کے یہاں یا اپنی پھپیوں کے گھر یا اپنے ماموؤں کے یہاں(3)یااپنی خالاؤں کے گھر یا جہاں کی کنجیاں تمھارے قبضہ میں ہیں یا اپنے دوست کے یہاں، تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ مجتمع ہو کر کھاؤ یاالگ الگ۔''
      	             پہلے کھانے کے متعلق چند حدیثیں بیان کی جاتی ہیں۔
    حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں حذیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ، کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ ''جس کھانے پر بسم اﷲ نہ پڑھی جائے، شیطان کے لیے وہ کھانا حلال ہوجاتا ہے۔''(4)یعنی بسم اﷲنہ پڑھنے کی صورت میں شیطان اس کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔پ۸، الاعراف: ۳۱ ۔ ۳۳.         2۔۔۔۔۔۔پ۱۸، النور:۶۱. 

3۔۔۔۔۔۔بہارشریعت میں اس مقام پر '' اَوْ بُیُوۡتِ اَخْوَالِکُمْ  ''کاترجمہ''یااپنے ماموؤں کے یہاں'' موجودنہیں تھا،جوکتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے لہذامتن میں کنزالایمان سے اس کااضافہ کردیاگیاہے۔...علمیہ

4۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''،کتاب الأشربۃ،باب آداب الطعام والشرب...إلخ، الحدیث:۱۰۲۔(۲۰۱۷)،ص۱۱۱۶.
Flag Counter