Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ شانزدَہم (16)
358 - 660
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  ؕ

نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ  ؕ
حظرواباحت کا بیان(1)

کھانے کا بیان
    اس کتاب میں ان چیزوں کا بیان ہے جو شرعاً ممنوع یا مباح ہیں۔ اصطلاح شرح میں مباح اس کو کہتے ہیں، جس کے کرنے اور چھوڑنے دونوں کی اجازت ہو، نہ اس میں ثواب ہے نہ اس میں عذاب ہے۔ مکروہ کی دونوں قسموں کی تعریفیں حصہ دوم (2)میں ذکر کردی گئیں وہاں سے معلوم کریں۔

    اس کتاب کے مسائل چند ابواب پر منقسم ہیں۔ سب سے پہلے کھانے پینے سے جن مسائل کا تعلق ہے، وہ بیان کیے جاتے ہیں کہ انسانی زندگی کا تعلق کھانے پینے سے ہے ۔قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔
    (یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ ﴿۸۷﴾وَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ حَلٰـلًا طَیِّبًا ۪ وَّاتَّقُوا اللہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤْمِنُوۡنَ ﴿۸۸﴾)
(3) 

    ''اے ایمان والواﷲ(عزوجل)نے جو تمھارے لیے حلال کیا ہے اسے حرام نہ کرو اور حد سے نہ گزرو، بے شک اﷲ(عزوجل)حد سے گزرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اوراﷲ(عزوجل)نے جو تمہیں حلال پاکیزہ رزق دیا ہے، اس میں سے کھاؤ اور اﷲ(عزوجل)سے ڈرو جس پر تم ایمان لائے ہو۔'' 

    اور فرماتا ہے:
    (کُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللہُ وَلَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۴۲﴾ۙ
) (4) 

    ''کھاؤ اس میں سے جواﷲ(عزوجل)نے تمھیں روزی دی اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔'' 

    اور فرماتا ہے:
    (یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمْ عِنۡدَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَّکُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا وَلَا تُسْرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْرِفِیۡنَ ﴿٪۳۱﴾قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللہِ الَّتِیۡۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ ؕ قُلْ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ یعنی ممنوع اور مباح چیزوں کا بیان۔         2۔۔۔۔۔۔یعنی بہارشریعت ،ج۱،حصہ دوم۔

3۔۔۔۔۔۔پ۷، المآئدۃ: ۸۷ ۔ ۸۸.

4۔۔۔۔۔۔پ۸، الانعام:۱۴۲.
Flag Counter