Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
356 - 357
کرتے۔ عقیقہ کریں تو سنت بھی ادا ہو جائے اور مہمانوں کے کھلانے کے لیے گوشت بھی ہو جائے۔ 

    مسئلہ ۲: بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شامل حال ہو۔ 

    مسئلہ ۳: عبداﷲو عبدالرحمن بہت اچھے نام ہیں مگر اس زمانہ میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بجائے عبدالرحمن اوس شخص کو بہت سے لوگ رحمن کہتے ہیں اور غیر خدا کو رحمن کہنا حرام ہے۔ اسی طرح عبدالخالق کو خالق اور عبدالمعبود کو معبود کہتے ہیں اس قسم کے ناموں میں ایسی ناجائز ترمیم ہرگز نہ کی جائے۔ اسی طرح بہت کثرت سے ناموں میں تصغیر کا رواج ہے یعنی نام کو اس طرح بگاڑتے ہیں جس سے حقارت نکلتی ہے اور ایسے ناموں میں تصغیر ہرگز نہ کی جائے لہٰذا جہاں یہ گمان ہو کہ ناموں میں تصغیر کی جائے گی یہ نام نہ رکھے جائیں دوسرے نام رکھے جائیں۔(1) (عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ ۴: محمد بہت پیارا نام ہے اس نام کی بڑی تعریف حدیثوں میں آئی ہے اگر تصغیر کا اندیشہ نہ ہو تو یہ نام رکھا جائے اور ایک صورت یہ ہے کہ عقیقہ کا یہ نام ہو اور پکارنے کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کر لیا جائے اور ہندوستان میں ایسا بہت ہوتا ہے کہ ایک شخص کے کئی نام ہوتے ہیں اس صورت میں نام کی برکت بھی ہوگی اور تصغیر سے بھی بچ جائیں گے۔

    مسئلہ ۵: مردہ بچہ پیدا ہوا تو اوس کا نام رکھنے کی ضرورت نہیں بغیر نام اس کو دفن کر دیں(2)اور زندہ پیدا ہو تو اس کا نام رکھا جائے اگرچہ پیدا ہو کر مر جائے۔ (3)

    مسئلہ ۶: عقیقہ کے لیے ساتواں دن بہتر ہے اور ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں کرسکتے ہیں سنت ادا ہو جائے گی۔ بعض نے یہ کہا کہ ساتویں یا چودہویں یا اکیسویں دن یعنی سات دن کا لحاظ رکھا جائے یہ بہتر ہے اور یاد نہ رہے تو یہ کرے کہ جس دن بچہ پیدا ہو اوس دن کو یاد رکھیں اوس سے ایک دن پہلے والا دن جب آئے وہ ساتواں ہوگا مثلاًجمعہ کو پیدا ہوا تو جمعرات ساتویں دن ہے اور سنیچر کو پیدا ہوا تو ساتویں دن جمعہ ہوگا پہلی صورت میں جس جمعرات کو اور دوسری صورت میں جس جمعہ کو عقیقہ کریگا اوس میں ساتویں کا حساب ضرور آئے گا۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الاولاد...إلخ،ج۵،ص۳۶۲،وغیرھ.

2۔۔۔۔۔۔یہ ظاہر الروایہ ہے مگر امام ابو یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی کا مذہب یہ ہے کہ بچہ زندہ پیدا ہو یا مردہ بہر حال اس کی تکریم کے لیے اس کا نام رکھا 

جائے۔ملتقی الابحر میں ہے کہ اس پر فتویٰ ہے اور نہر سے مستفاد ہے کہ یہی مختار ہے ایسا ہی درمختار باب صلاۃ الجنازۃ جلد۳، صفحہ ۱۵۳ میں ہے۔ بہار شریعت،ج۱ حصہ ۴، صفحہ ۸۴۱، نمازجنازہ کا بیان میں بھی اسی کو اختیار کیا اور اس حصے پر اعلیٰ حضرت کی یہ تصدیق بھی ہے کہ اسے مسائلصحیحہ، رجیحہ، محقـقہ، منقحہپر مشتمل پایا لہٰذا مسلمانوں کو اسی پر عمل کرنا چاہے۔ ...علمیہ

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الکراھیۃ،الباب الثانی والعشرون فی تسمیۃ الاولاد...إلخ،ج ۵،ص۳۶۲.
Flag Counter