| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
پیدا ہوئے تو میں نے دیکھا کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اون کے کان میں وہی اذان کہی جو نماز کے لیے کہی جاتی ہے۔ (1)
حدیث ۸: امام مسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے راوی کہتی ہیں کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں بچے لائے جاتے حضور(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )ان کے لیے برکت کی دعا کرتے اورتحنیک کرتے یعنی کوئی چیز مثلاً کھجور چبا کر اوس بچہ کے تالو میں لگادیتے کہ سب سے پہلے اوس کے شکم میں حضور(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )کا لعاب دہن پہنچے۔(2)
حدیث ۹: بخاری و مسلم حضرت اسمابنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہتی ہیں کہ عبداﷲبن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ مکہ ہی میں ہجرت سے قبل میرے پیٹ میں تھے بعد ہجرت قبا میں یہ پیدا ہوئے میں ان کو رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی خدمت میں لائی اور حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی گود میں ان کو رکھ دیا پھر حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے کھجور منگائی اور چبا کر ان کے مونھ میں ڈال دی اور ان کے لیے دُعائے برکت کی اور بعد ہجرت مسلمان مہاجرین کے یہاں یہ سب سے پہلے بچہ ہیں۔ (3)مسائل:
بچہ پیدا ہونے کے شکریہ میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اوس کو عقیقہ کہتے ہیں۔ حنفیہ کے نزدیک عقیقہ مباح و مستحب ہے۔ یہ جو بعض کتابوں میں مذکور ہے کہ عقیقہ سنت نہیں اس سے مراد یہ ہے کہ سنت مؤکدہ نہیں ورنہ جب خود حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے فعل سے اس کا ثبوت موجود ہے تو مطلقاً اس کی سنیت سے انکار صحیح نہیں۔ بعض کتابوں میں یہ آیا ہے کہ قربانی سے یہ منسوخ ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ اوس کا وجوب منسوخ ہے جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ زکوٰۃ نے حقوق مالیہ کو منسوخ کر دیا یعنی اون کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔ جب بچہ پیدا ہو تو مستحب یہ ہے کہ اوس کے کان میں اذان و اقامت کہی جائے اذان کہنے سے ان شاأاﷲتعالیٰ بلائیں دور ہو جائیں گی۔ بہتر یہ ہے کہ دہنے کان میں چار مرتبہ اذان اور بائیں میں تین مرتبہ اقامت کہی جائے۔ بہت لوگوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اذان کہی جاتی ہے اور لڑکی پیدا ہوتی ہے تو نہیں کہتے۔ یہ نہ چاہیے بلکہ لڑکی پیدا ہو جب بھی اذان و اقامت کہی جائے۔ ساتویں دن اوس کا نام رکھا جائے اور اوس کا سرمونڈا جائے اور سر مونڈنے کے وقت عقیقہ کیا جائے۔ اور بالوں کو وزن کر کے اوتنی چاندی یا سونا صدقہ کیا جائے۔
مسئلہ ۱: ہندوستان میں عموماً بچہ پیدا ہونے پرچَھٹی(4)کی جاتی ہے۔ بعض لوگوں میں اس موقع پر ناجائز رسمیں برتی جاتی ہیں مثلاً عورتوں کا گانا بجانا ایسی باتوں سے بچنا اور ان کو چھوڑنا ضروری و لازم ہے بلکہ مسلمانوں کو وہ کرنا چاہیے جو حضور اقدس صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کے قول و فعل سے ثابت ہے۔ عقیقہ سے بہت زائد رسوم میں صرف کر دیتے ہیں اور عقیقہ نہیںـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الأدب،باب في الصبی یولد فیؤذن فيأذنہ،الحدیث:۵۱۰۵،ج۴،ص۴۲۳. 2۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الطھارۃ،باب حکم بول الطفل الرضیع...إلخ،الحدیث:۱۰۱۔(۲۸۶)،ص۱۶۵. 3۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب العقیقۃ،باب تسمیۃ المولود...إلخ،الحدیث:۵۴۶۹،ج۳،ص۵۴۶. 4۔۔۔۔۔۔بچے کی پیدائش کے چھٹے دن منائی جانے والی خوشی ۔