Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
357 - 357
    مسئلہ ۷: لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی میں ایک بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے میں نر جانور اور لڑکی میں مادہ مناسب ہے۔ اور لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی میں بکرا کیا جب بھی حرج نہیں۔ اور عقیقہ میں گائے ذبح کی جائے تو لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ کافی ہے یعنی سات حصوں میں دو حصے یا ایک حصہ۔ 

    مسئلہ ۸: گائے کی قربانی ہوئی اس میں عقیقہ کی شرکت ہوسکتی ہے جس کا ذکر قربانی میں گزرا۔ 

    مسئلہ ۹: بچہ کا سر مونڈنے کے بعد سر پر زعفران پیس کر لگا دینا بہتر ہے۔ 

    مسئلہ ۱۰: عقیقہ کا جانور اونھیں شرائط کے ساتھ ہونا چاہیے جیسا قربانی کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا گوشت فقرا اور عزیز و قریب دوست و احباب کو کچا تقسیم کر دیا جائے یا پکا کر دیا جائے یا اون کو بطورِ ضیافت(1)و دعوت کھلایا جائے یہ سب صورتیں جائز ہیں۔ 

    مسئلہ ۱۱: بہتر یہ ہے کہ اوس کی ہڈی نہ توڑی جائے بلکہ ہڈیوں پر سے گوشت اوتار لیا جائے یہ بچہ کی سلامتی کی نیک فال ہے(2)اور ہڈی توڑ کر گوشت بنایا جائے اس میں بھی حرج نہیں۔ گوشت کو جس طرح چاہیں پکا سکتے ہیں مگر میٹھا پکایا جائے تو بچہ کے اخلاق اچھے ہونے کی فال ہے۔ 

    مسئلہ ۱۲: بعض کا یہ قول ہے کہ سری پائے حجام کو اور ایک ران دائی کو دیں باقی گوشت کے تین حصے کریں ایک حصہ فقرا کا ایک احباب کا اور ایک حصہ گھر والے کھائیں۔ 

    مسئلہ ۱۳: عوام میں یہ بہت مشہور ہے کہ عقیقہ کا گوشت بچہ کے ماں باپ اور دادا دادی، نانا نانی نہ کھائیں یہ محض غلط ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ 

    مسئلہ ۱۴: لڑکے کے عقیقہ میں دو بکریوں کی جگہ ایک ہی بکری کسی نے کی تو یہ بھی جائز ہے۔ ایک حدیث سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ میں ایک مینڈھا ذبح ہوا۔ 

    مسئلہ ۱۵: اس کی کھال کا وہی حکم ہے جو قربانی کی کھال کا ہے کہ اپنے صرف میں لائے یا مساکین کو دے یا کسی اور نیک کام مسجد یا مدرسہ میں صرف کرے۔ 

    مسئلہ ۱۶: عقیقہ میں جانور ذبح کرتے وقت ایک دعا پڑھی جاتی ہے اوسے پڑھ سکتے ہیں اور یاد نہ ہو تو بغیر دعا پڑھے بھی ذبح کرنے سے عقیقہ ہو جائے گا۔
واللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ قَدْ تَمّ ھٰذَا الْجُزْءُ بِحَمْدِ اللہِ سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالٰی وَصَلَّی اللہُ عَلٰی اَفْضَلِ

خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَابْنِہٖ وَحِزْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ.

وَاَنا الْفَقِیْرُ اَبُوالْعُلا مُحَمَّد اَمْجَدْ عَلِی الاَعْظَمِی عفی عنہ.
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔یعنی بطور مہمان نوازی۔    2۔۔۔۔۔۔یعنی نیک شگون ہے۔
Flag Counter