Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
354 - 357
    حدیث ۱: امام بخاری نے سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کوفرماتے سنا کہ''لڑکے کے ساتھ عقیقہ ہے اوس کی طرف سے خون بہاؤ (یعنی جانور ذبح کرو)اور اوس سے اذیت کو دور کرو''(1)یعنی اوس کا سر مونڈا دو۔ 

    حدیث ۲: ابو داود و ترمذی و نسائی نے اُمّ کرز رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہتی ہیں میں نے رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو فرماتے سُنا کہ''لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک اس میں حرج نہیں کہ نر ہوں یا مادہ۔''(2)

    حدیث ۳: امام احمد و ابو داود و ترمذی و نسائی سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا :''لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے ساتویں دن اوس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے اور اوس کا نام رکھا جائے اور سر مونڈا جائے۔ ''(3)گروی ہونے کا یہ مطلب یہ ہے کہ اوس سے پورا نفع حاصل نہ ہوگا جب تک عقیقہ نہ کیا جائے اور بعض نے کہا بچہ کی سلامتی اور اوس کی نشوونما اور اوس میں اچھے اوصاف ہونا عقیقہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ 

    حدیث ۴: ترمذی نے اَمیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حضرت حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف سے عقیقہ میں بکری ذبح کی اور یہ فرمایا کہ''اے فاطمہ اس کا سرمونڈا دو اور بال کے وزن کی چاندی صدقہ کرو''ہم نے بالوں کو وزن کیا تو ایک درہم یا کچھ کم تھے۔ (4)

    حدیث ۵: ابو داود اِبن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے امام حسن و امام حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی طرف سے ایک ایک مینڈھے کا عقیقہ کیا اور نسائی کی روایت میں ہے کہ دو دو مینڈھے۔ (5)

    حدیث ۶: ابو داود بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں کہ زمانہء جاہلیت میں جب ہم میں کسی کے بچہ پیدا ہوتا توبکری ذبح کرتا اور اوس کا خون بچہ کے سر پر پوت دیتا(6)اب جبکہ اسلام آیا تو ساتویں دن ہم بکری ذبح کرتے ہیں اور بچہ کاسرمونڈاتے ہیں اور سر پر زعفران لگا دیتے ہیں۔ (7)

    حدیث ۷: ابو داود و ترمذی ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہتے ہیں کہ جب حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب العقیقۃ،باب إماطۃ الأذی عن الصبی في العقیقۃ،الحدیث:۵۴۷۲،ج۳،ص۵۴۷.

2۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب العقیقۃ،الحدیث:۲۸۳۵،ج۳،ص۱۴۱. 

3۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''،کتاب الأضاحی،باب من العقیقۃ،الحدیث:۱۵۲۷،ج۳،ص۱۷۷. 

4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،باب العقیقۃ بشاۃ،الحدیث:۱۵۲۴،ص۱۷۵.

5۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب العقیقۃ،الحدیث:۲۸۴۱،ج۳،ص۱۴۳. 

و''سنن النسائي''،کتاب العقیقۃ،باب کم یعق عن الجاریۃ،الحدیث:۴۲۲۵،ص۶۸۸. 

6۔۔۔۔۔۔یعنی سرپر مَل لیتا۔

7۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب العقیقۃ،الحدیث:۲۸۴۳،ج۳،ص۱۴۴.
Flag Counter