| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
اس طرح ذبح کرے کہ چاروں رگیں کٹ جائیں یا کم سے کم تین رگیں کٹ جائیں۔ اس سے زیادہ نہ کاٹیں کہ چھری گردن کے مہرہ تک پہنچ جائے کہ یہ بے وجہ کی تکلیف ہے پھر جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے یعنی جب تک اوس کی روح بالکل نہ نکل جائے اوس کے نہ پاؤں وغیرہ کاٹیں نہ کھال اوتاریں اور اگر دوسرے کی طرف سے ذبح کرتا ہے تو مِنِّیکی جگہ مِن ْکے بعد اوس کا نام لے۔ اور اگر وہ مشترک جانور ہے جیسے گائے اونٹ تو وزن سے گوشت تقسیم کیا جائے محض تخمینہ سے (1)تقسیم نہ کریں۔ پھر اس گوشت کے تین حصے کر کے ایک حصہ فقرا پر تصدّق کرے (2)اور ایک حصہ دوست و احباب کے یہاں بھیجے اور ایک اپنے گھر والوں کے لیے رکھے اور اس میں سے خود بھی کچھ کھالے اور اگر اہل و عیال زیادہ ہوں تو تہائی سے زیادہ بلکہ کل گوشت بھی گھر کے صرف میں(3)لاسکتا ہے۔ اور قربانی کا چمڑا اپنے کام میں بھی لاسکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ کسی نیک کام کے لیے دیدے مثلاً مسجد یادینی مدرسہ کو دیدے یا کسی فقیر کو دیدے۔ بعض جگہ یہ چمڑا امام مسجد کو دیا جاتا ہے اگر امام کی تنخواہ میں نہ دیا جاتا ہو بلکہ اعانت کے طور پرہو توحرج نہیں۔ بحرالرائق میں مذکور ہے کہ قربانی کرنے والا بقرعید کے دن سب سے پہلے قربانی کا گوشت کھائے اس سے پہلے کوئی دوسری چیز نہ کھائے یہ مستحب ہے اس کے خلاف کرے جب بھی حرج نہیں۔ (4)
فائدہ:
احادیث سے ثابت ہے کہ سید عالم حضرت محمد رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے اس امت مرحومہ کی طرف سے قربانی کی یہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے بے شمار الطاف میں سے ایک خاص کرم ہے کہ اس موقع پر بھی امت کا خیال فرمایا اور جو لوگ قربانی نہ کرسکے اون کی طرف سے خود ہی قربانی ادا فرمائی۔ یہ شبہہ کہ ایک مینڈھا ان سب کی طرف سے کیونکر ہوسکتا ہے یا جو لوگ ابھی پیدا ہی نہ ہوئے اون کی قربانی کیونکر ہوئی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے خصائص سے ہے۔ جس طرح حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے چھ مہینے کے بکری کے بچہ کی قربانی ابوبردہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے جائز فرما دی اوروں کے لیے اس کی ممانعت کر دی۔ اسی طرح اس میں خود حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی خصوصیت ہے۔ کہنا یہ ہے کہ جب حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے اُمت کی طرف سے قربانی کی تو جو مسلمان صاحب استطاعت ہو اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہٖ وسلَّم کے نام کی ایک قربانی کرے تو زہے نصیب اور بہتر سینگ والا مینڈھا ہے جس کی سیاہی میں سفیدی کی بھی آمیزش ہو جیسے مینڈھے کی خود حضور اکرم (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم )نے قربانی فرمائی۔
عقیقہ کا بیان
اس کے متعلق پہلے چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں وہ یہ ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔اندازہ سے۔ 2۔۔۔۔۔۔صدقہ کردے۔ 3۔۔۔۔۔۔استعمال میں۔ 4۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب الصلاۃ،باب مایفسد الصلاۃ...إلخ،ج۲،ص۵۷.