Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
351 - 357
اپنی بکری ذبح کی جب بھی جائز ہے اور دوسرے کی ذبح کی جب بھی جائز ہے کہ یہ اوس کا وکیل ہے۔(1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۵۲: دوسرے سے ذبح کرایا اور خود اپنا ہاتھ بھی چھری پر رکھ دیا کہ دونوں نے مل کر ذبح کیا تو دونوں پر بِسْمِ اﷲ کہناواجب ہے ایک نے بھی قصداً چھوڑ دی یا یہ خیال کر کے چھوڑ دی کہ دوسرے نے کہہ لی مجھے کہنے کی کیا ضرورت دونوں صورتوں میں جانور حلال نہ ہوا۔(2) (درمختار) 

    مسئلہ ۵۳: قربانی کے لیے گائے خریدی پھر اس میں چھ شخصوں کو شریک کر لیا سب کی قربانیاں ہو جائیں گی مگر ایسا کرنا مکروہ ہے ہاں اگر خریدنے ہی کے وقت اوس کا یہ ارادہ تھا کہ اس میں دوسروں کو شریک کروں گا تو مکروہ نہیں اور اگر خریدنے سے پہلے ہی شرکت کر لی جائے تو یہ سب سے بہتر اور اگر غیر مالک نصاب نے قربانی کے لیے گائے خریدی تو خریدنے سے ہی اوس پر اس گائے کی قربانی واجب ہوگئی اب وہ دوسرے کو شریک نہیں کرسکتا۔ (3)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۵۴: پانچ شخصوں نے قربانی کے لیے گائے خریدی ایک شخص آتاہے وہ یہ کہتا ہے مجھے بھی اس میں شریک کرلو چار نے منظور کر لیا اور ایک نے انکار کیا اوس گائے کی قربانی ہوئی سب کی طرف سے جائز ہوگئی کیونکہ یہ چھٹا شخص اون چاروں کا شریک ہے اور ان میں ہر ایک کا ساتویں حصہ سے زیادہ ہے اور گوشت یوں تقسیم ہوگا کہ پانچواں حصہ اوس کا ہے جس نے شرکت سے انکار کیا باقی چار حصوں کو یہ پانچوں برابر بانٹ لیں۔ یا یوں کرو کہ پچیس حصے کر کے اوس کو پانچ حصے دو جس نے شرکت سے انکار کیا ہے باقیوں کو چار چار حصے۔(4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۵۵: قربانی کے لیے بکری خریدی اور قربانی کر دی پھر معلوم ہوا کہ بکری میں عیب ہے مگر ایسا عیب نہیں جس کی قربانی نہ ہوسکے اس کو اختیار ہے کہ اوس کی وجہ سے جو کچھ قیمت میں کمی ہوسکتی ہے وہ بائع سے واپس لے اور اوس کا صدقہ کرنا اس پر واجب نہیں اور اگر بائع(5)کہتا ہے کہ میں ذبح کی ہوئی بکری لوں گا اور ثمن واپس کر دوں گا تو مشتری(6)اس ثمن کو صدقہ کر دے صرف اوتنا حصہ جو عیب کی وجہ سے کم ہوسکتا ہے اوس کو رکھ سکتا ہے۔(7) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۵۶: قربانی کی ذبح کی ہوئی بکری غصب کر لی غاصب سے اس کا تاوان لے سکتا ہے مگر اس تاوان کو صدقہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب السابع فی التضحیۃ عن الغیر...إلخ،ج۵،ص۳۰۴.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۵۱.

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الثامن فیما یتعلق بالشرکۃ فی الضحایا،ج۵،ص۳۰۴.

4۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۰۴،۳۰۵.

5۔۔۔۔۔۔بیچنے والا۔    6۔۔۔۔۔۔خریدار۔

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب التاسع فی المتفرقات،ج۵،ص۳۰۷.
Flag Counter