مسئلہ ۲۱: قربانی کا گوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسرے شخص غنی یا فقیر کو دے سکتا ہے کھلا سکتا ہے بلکہ اوس میں سے کچھ کھا لینا قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے۔ بہتر یہ ہے کہ گوشت کے تین حصے کرے ایک حصہ فقرا کے لیے اور ایک حصہ دوست و احباب کے لیے اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے، ایک تہائی سے کم صدقہ نہ کرے۔ اور کل کو صدقہ کر دینا بھی جائز ہے اور کل گھر ہی رکھ لے یہ بھی جائز ہے۔ تین دن سے زائد اپنے اور گھر والوں کے کھانے کے لیے رکھ لینا بھی جائز ہے اور بعض حدیثوں میں جو اس کی ممانعت آئی ہے وہ منسوخ ہے اگر اوس شخص کے اہل و عیال بہت ہوں اور صاحب وسعت نہیں ہے تو بہتر یہ ہے کہ سارا گوشت اپنے بال بچوں ہی کے لیے رکھ چھوڑے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: قربانی کا گوشت کافر کو نہ دے کہ یہاں کے کفار حربی ہیں۔
مسئلہ ۲۳: قربانی اگر منت کی ہے تو اوس کا گوشت نہ خود کھاسکتا ہے نہ اغنیا کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے وہ منت ماننے والا فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ خود نہیں کھا سکتا ہے نہ غنی کو کھلا سکتا ہے۔ (4)(زیلعی)
مسئلہ ۲۴: میت کی طرف سے قربانی کی تو اوس کے گوشت کا بھی وہی حکم ہے کہ خود کھائے دوست احباب کو دے فقیروں کو دے یہ ضرور نہیں کہ سارا گوشت فقیروں ہی کو دے کیوں کہ گوشت اس کی مِلک ہے یہ سب کچھ کرسکتا ہے اور اگر میت نے کہہ دیا ہے کہ میری طرف سے قربانی کر دینا تو اس میں سے نہ کھائے بلکہ کل گوشت صدقہ کر دے۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۵: قربانی کا چمڑا اور اوس کی جھول(6)اور رسّی اور اوس کے گلے میں ہار ڈالا ہے وہ ہار ان سب چیزوں کوصدقہ کردے۔ قربانی کے چمڑے کو خود بھی اپنے کام میں لاسکتا ہے یعنی اوس کو باقی رکھتے ہوئے اپنے کسی کام میں لاسکتا ہے