| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
یہ اتفاق کر لیا کہ ایک ایک جانور ہر شخص قربانی کرے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا سب کی قربانیاں ہوگئیں مگر جس نے تیس میں خریدا تھا وہ بیس روپے خیرات کرے کیوں کہ ممکن ہے کہ دس والے کو اوس نے قربانی کیا ہو اور جس نے بیس میں خریدا تھا وہ دس روپے خیرات کرے اور جس نے دس میں خریداتھا اوس پر کچھ صدقہ کرنا واجب نہیں اور اگر ہر ایک نے دوسرے کو ذبح کرنے کی اجازت دے دی تو قربانی ہو جائے گی اور اوس پر کچھ واجب نہ ہوگا۔ (1)(درمختار)
(قربانی کے بعض مستحبات)
مسئلہ ۱۸: مستحب یہ ہے کہ قربانی کا جانور خوب فربہ اور خوبصورت اور بڑا ہو اور بکری کی قسم میں سے قربانی کرنی ہو تو بہتر سینگ والا مینڈھا چت کبرا ہو(2) جس کے خصیے کوٹ کر خصی کر دیا ہو کہ حدیث میں ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ایسے مینڈھے کی قربانی کی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: ذبح کرنے سے پہلے چھری کو تیز کر لیا جائے اور ذبح کے بعد جب تک جانور ٹھنڈا نہ ہو جائے اوس کے تمام اعضا سے روح نکل نہ جائے اوس وقت تک ہاتھ پاؤں نہ کاٹیں اور نہ چمڑا اوتاریں اور بہتر یہ ہے کہ اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے کرے اگر اچھی طرح ذبح کرنا جانتا ہو اور اگر اچھی طرح نہ جانتا ہو تو دوسرے کو حکم دے وہ ذبح کرے مگر اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ وقت قربانی حاضر ہو حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا سے فرمایا :''کھڑی ہوجاؤ اور اپنی قربانی کے پاس حاضر ہو جاؤ کہ اوس کے خون کے پہلے ہی قطرہ میں جو کچھ گناہ کیے ہیں سب کی مغفرت ہوجائے گی اس پر ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی یا نبی اﷲ(صلی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ آپ کی آل کے لیے خاص ہے یاآپ کی آل کے لیے بھی ہے اور عامہ مسلمین کے لیے بھی فرمایا کہ میری آل کے لیے خاص بھی ہے اور تمام مسلمین کے لیے عام بھی ہے۔ (4)(عالمگیری، زیلعی، شلبیہ)
مسئلہ ۲۰: قربانی کا جانور مسلمان سے ذبح کرانا چاہیے اگر کسی مجوسی یا دوسرے مشرک سے قربانی کا جانور ذبح کرادیا تو قربانی نہیں ہوئی بلکہ یہ جانور حرام و مردار ہے اور کتابی سے قربانی کا جانور ذبح کرانا مکروہ ہے کہ قربانی سے مقصودـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۱. 2۔۔۔۔۔۔یعنی سفید وسیاہ رنگ والا ہو۔ 3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب،ج۵،ص۳۰۰. و''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب مایستحب من الضحایا،الحدیث:۲۷۹۵،ج۳،ص۱۲۶. 4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الخامس فی بیان محل إقامۃ الواجب،ج۵،ص۳۰۰. و''تبیین الحقائق''،کتاب الأضحیۃ،ج۶،ص۴۸۷. و''حاشیۃ الشلبیۃ''ھامش علی''تبیین الحقائق''،کتاب الأضحیۃ،ج۶،ص۴۸۷.