مثلاً اوس کی جانماز بنائے، چلنی(1)، تھیلی، مشکیزہ، دسترخوان، ڈول وغیرہ بنائے یا کتابوں کی جلدوں میں لگائے یہ سب کر سکتاہے۔ (2)(درمختار)چمڑے کا ڈول بنایا تو اسے اپنے کام میں لائے اُجرت پر نہ دے اور اگر اُجرت پر دے دیا تو اس اُجرت کو صدقہ کرے۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: قربانی کے چمڑے کو ایسی چیزوں سے بدل سکتا ہے جس کو باقی رکھتے ہوئے اوس سے نفع اٹھایا جائے جیسے کتاب، ایسی چیز سے بدل نہیں سکتا جس کو ہلاک کر کے نفع حاصل کیا جاتا ہو جیسے روٹی، گوشت، سرکہ، روپیہ، پیسہ اور اگر اوس نے ان چیزوں کو چمڑے کے عوض میں حاصل کیا تو ان چیزوں کو صدقہ کر دے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: اگر قربانی کی کھال کو روپے کے عوض میں بیچا مگر اس لیے نہیں کہ اوس کو اپنی ذات پر یا بال بچوں پر صرف کریگا بلکہ اس لیے کہ اوسے صدقہ کر دے گا تو جائز ہے۔(5) (عالمگیری)جیسا کہ آج کل اکثر لوگ کھال مدارس دینیہ میں دیا کرتے ہیں اور بعض مرتبہ وہاں کھال بھیجنے میں دقت ہوتی ہے اوسے بیچ کر روپیہ بھیج دیتے ہیں یا کئی شخصوں کو دینا ہوتا ہے اوسے بیچ کر دام ان فقرا پر تقسیم کر دیتے ہیں یہ بیع جائز ہے اس میں حرج نہیں اور حدیث میں جو اس کے بیچنے کی ممانعت آئی ہے اس سے مراد اپنے لیے بیچنا ہے۔
مسئلہ ۲۸: گوشت کا بھی وہی حکم ہے جو چمڑے کا ہے کہ اس کو اگر ایسی چیز کے بدلے میں بیچا جس کو ہلاک کر کے نفع حاصل کیا جائے تو صدقہ کر دے۔ (6)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۹: قربانی کی چربی اور اوس کی سری، پائے اور اون اور دودھ جو ذبح کے بعد دوہا ہے ان سب کا وہی حکم ہے کہ اگر ایسی چیز اس کے عوض میں لی جس کو ہلاک کر کے نفع حاصل کریگا تو اوس کو صدقہ کر دے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: قربانی کا چمڑا یا گوشت یا اس میں کی کوئی چیز قصاب یا ذبح کرنے والے کو اُجرت میں نہیں دے سکتا کہ اس کو اُجرت میں دینا بھی بیچنے ہی کے معنی میں ہے۔ (8)(ہدایہ)