Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
343 - 357
 (قربانی کے جانور میں شرکت)
    مسئلہ ۱۳: سات شخصوں نے قربانی کے لیے گائے خریدی تھی ان میں ایک کا انتقال ہوگیا اس کے ورثہ نے شرکا سے یہ کہہ دیا کہ تم اس گائے کو اپنی طرف سے اور اوس کی طرف سے قربانی کرو اونھوں نے کر لی تو سب کی قربانیاں جائز ہیں اور اگر بغیر اجازت ورثہ ان شرکا نے کی تو کسی کی نہ ہوئی۔ (1)(ہدایہ) 

    مسئلہ ۱۴: گائے کے شرکا میں سے ایک کافر ہے یا ان میں ایک شخص کا مقصود قربانی نہیں ہے بلکہ گوشت حاصل کرنا ہے تو کسی کی قربانی نہ ہوئی بلکہ اگر شرکا میں سے کوئی غلام یا مدبر ہے جب بھی قربانی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ لوگ اگر قربانی کی نیت بھی کریں تو نیت صحیح نہیں۔ (2)(درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۵: شرکا میں سے ایک کی نیت اس سال کی قربانی ہے اور باقیوں کی نیت سال گزشتہ کی قربانی ہے تو جس کی اس سال کی نیت ہے اوس کی قربانی صحیح ہے اور باقیوں کی نیت باطل کیونکہ سال گزشتہ کی قربانی اس سال نہیں ہوسکتی ان لوگوں کی یہ قربانی تطوّع یعنی نفل ہوئی اور ان لوگوں پر لازم ہے کہ گوشت کو صدقہ کر دیں بلکہ ان کا ساتھی جس کی قربانی صحیح ہوئی ہے وہ بھی گوشت صدقہ کر دے۔ (3)(ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۶: قربانی کے سب شرکا کی نیت تقَرُّب ہو(4)اس کا یہ مطلب ہے کہ کسی کا ارادہ گوشت نہ ہو اور یہ ضرور نہیں کہ وہ تقرب ایک ہی قسم کا ہو مثلاً سب قربانی ہی کرنا چاہتے ہیں بلکہ اگر مختلف قسم کے تقرب ہوں وہ تقرب سب پر واجب ہو یا کسی پر واجب ہو اور کسی پر واجب نہ ہو ہر صورت میں قربانی جائز ہے مثلاًدَمِ اِحصار اور احرام میں شکار کرنے کی جزا اور سر منڈانے کی وجہ سے دَم واجب ہوا ہو اورتمتع و قران کادَم(5)کہ ان سب کے ساتھ قربانی کی شرکت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح قربانی اور عقیقہ کی بھی شرکت ہوسکتی ہے کہ عقیقہ بھی تقرب کی ایک صورت ہے۔(6) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۷: تین شخصوں نے قربانی کے جانور خریدے ایک نے دس کا دوسرے نے بیس کا تیسرے نے تیس کا اور ہر ایک نے جتنے میں خریدا ہے اوس کی واجبی قیمت بھی اوتنی ہی ہے یہ تینوں جانور مل گئے یہ پتا نہیں چلتا کہ کس کا کون ہے تینوں نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الأضحیۃ،ج۲،ص۳۶۰.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۰.

3۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۰.

4۔۔۔۔۔۔یعنی اﷲتعالیٰ کاحق اداکرنا مقصود ہو۔ 5۔۔۔۔۔۔یعنی حج تمتع اور حج قران کادم،تفصیل کے لیے بہارشریعت ،ج۱،حصہ۶ ملاحظہ فرمائیں۔

6۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۴۰.
Flag Counter