Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
330 - 357
کرتے ہیں میں نے کہا یہ کیا اونھوں نے فرمایا کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے مجھے وصیت فرمائی کہ میں حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی طرف سے قربانی کروں لہٰذا میں حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔ (1)

    حدیث ۱۲: ابو داود و نسائی عبد اﷲبن عَمْرْورضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ رسول اﷲ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مجھے یوم اضحی کا حکم دیا گیا اس دن کو خدا نے اس امت کے لیے عید بنایا ایک شخص نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ بتایے اگر میرے پاس منیحہ(2) کے سوا کوئی جانور نہ ہو تو کیا اوسی کی قربانی کر دوں فرمایا:''نہیں۔ ہاں تم اپنے بال اور ناخن ترشواؤ اور مونچھیں ترشواؤ اور موئے زیر ناف کو مونڈو اسی میں تمہاری قربانی خدا کے نزدیک پوری ہو جائے گی ''(3)یعنی جس کو قربانی کی توفیق نہ ہو اوسے ان چیزوں کے کرنے سے قربانی کا ثواب حاصل ہو جائے گا۔ 

    حدیث ۱۳: مسلم و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی کہ حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا :''جس نے ذی الحجہ کا چاند دیکھ لیا اور اوس کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے تو جب تک قربانی نہ کر لے بال اور ناخنوں سے نہ لے یعنی نہ ترشوائے۔ (4)

    حدیث ۱۴: طبرانی عبداﷲبن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''قربانی میں گائے سات کی طرف سے اور اونٹ سات کی طرف سے ہے۔ ''(5)

    حدیث ۱۵: ابو داود و نسائی و ابن ماجہ مجاشع بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:'' بھیڑ کا جذع (چھ مہینے کا بچہ)سال بھر والی بکری کے قائم مقام ہے۔''(6) 

    حدیث ۱۶: امام احمد نے روایت کی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''افضل قربانی وہ ہے جو باعتبار قیمت اعلیٰ ہو اور خوب فربہ ہو۔ (7)

    حدیث ۱۷: طبرانی ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے رات میں قربانی کرنے سے منع فرمایا۔ (8)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''،کتاب الأضاحی،باب ماجاء في الأضحیۃ...إلخ،الحدیث:۱۵۰۰،ج۳،ص۱۶۳.

2۔۔۔۔۔۔منیحہ اوس جانور کو کہتے ہیں جو دوسرے نے اسے اس لیے دیا ہے کہ یہ کچھ دنوں اوس کے دودھ وغیرہ سے فائدہ اٹھائے پھر مالک کو واپس کردے، ۱۲ منہ۔

3۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب ماجاء في إیجاب الأضاحی،الحدیث:۲۷۸۹،ج۳،ص۱۲۳.

4۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''،کتاب الأضاحی،باب ترک أخذ الشعرلمن أرادأن یضحّی،الحدیث:۱۵۲۸،ج۳،ص۱۷۷.

5۔۔۔۔۔۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۰۰۲۶،ج۱۰،ص۸۳.

6۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''، کتاب الضحایا،باب ما یجوزمن السن في الضحایا،الحدیث:۲۷۹۹،ج۳،ص۱۲۷.

7۔۔۔۔۔۔''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،حدیث جد أبی الأشد،الحدیث:۱۵۴۹۴،ج۵،ص۲۷۹.

8۔۔۔۔۔۔''المعجم الکبیر''،الحدیث:۱۱۴۵۸،ج۱۱،ص۱۵۲.
Flag Counter