Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
331 - 357
    حدیث ۱۸: امام احمد وغیرہ حضرت علی سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''چار قسم کے جانور قربانی کے لیے درست نہیں۔ ۱ کانا ؔ  جس کا کانا پن ظاہر ہے اور ۲بیمارؔ جس کی بیماری ظاہر ہو اور ۳ لنگڑا ؔجس کا لنگ ظاہرہے اور ۴ ایسا لاغر ؔ  جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو''(1)اسی کی مثل امام مالک و احمد و ترمذی و ابو داود و نسائی و ابن ماجہ و دارمی براء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی۔ 

    حدیث ۱۹: امام احمد و ابن ماجہ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے کان کٹے ہوئے اور سینگ ٹوٹے ہوئے کی قربانی سے منع فرمایا۔(2) 

    حدیث ۲۰: ترمذی و ابو داود و نسائی و دارمی حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ'' ہم جانوروں کے کان اور آنکھیں غور سے دیکھ لیں اور اوس کی قربانی نہ کریں جس کے کان کا اگلا حصہ کٹا ہو اور نہ اوس کی جس کے کان کا پچھلا حصہ کٹا ہو نہ اوس کی جس کا کان پھٹا ہو یا کان میں سوراخ ہو۔'' (3)

    حدیث ۲۱: امام بخاری ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم عیدگاہ میں نحر و ذبح فرماتے تھے۔ (4)
مسائل فقہیہ
    قربانی کئی قسم کی ہے۔۱غنیؔ اور فقیر دونوں پر واجب،۲فقیر ؔپر واجب ہو غنی پر واجب نہ ہو،۳غنی ؔپر واجب ہو فقیر پر واجب نہ ہو۔ دونوں پر واجب ہو اوس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کی منت مانی یہ کہا کہ اﷲ(عزوجل)کے لیے مجھ پر بکری یا گائے کی قربانی کرنا ہے یا اس بکری یا اس گائے کو قربانی کرنا ہے۔ فقیر پر واجب ہو غنی پر نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ فقیر نے قربانی کے لیے جانور خریدا اس پر اس جانور کی قربانی واجب ہے اور غنی اگر خریدتا تو اس خریدنے سے قربانی اوس پر واجب نہ ہوتی۔ غنی پر واجب ہو فقیر پرواجب نہ ہو اس کی صورت یہ ہے کہ قربانی کا وجوب نہ خریدنے سے ہو نہ منت ماننے سے بلکہ خدا نے جو اسے زندہ رکھا ہے اس کے شکریہ میں اور حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت کے اِحیا میں(5)جو قربانی واجب ہے وہ صرف غنی پر ہے۔ (6)(عالمگیری)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''المسند''،للإمام أحمد بن حنبل،مسند الکوفیین،حدیث البراء بن عازب،الحدیث:۱۸۵۳۵،ج۶،ص۴۰۷،وغیرہ.

2۔۔۔۔۔۔''سنن ابن ماجۃ''،کتاب الأضاحی،باب ما یکرہ أن یضحی بہ،الحدیث:۳۱۴۵،ج۳،ص۵۴۰.

3۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''،کتاب الأضاحی،باب مایکرہ من الأضاحی،الحدیث:۱۵۰۳،ج۳،ص۱۶۵.

4۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب الأضاحی،باب الأضحی والنحربالمصلّٰی،الحدیث:۵۵۵۲،ج۳،ص۵۷۳.

5۔۔۔۔۔۔ یعنی سنت ابراہیمی کو قائم رکھنے کے لیے۔

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الأضحیۃ،الباب الاوّل فی تفسیرھا...إلخ،ج۵،ص۲۹۱،۲۹۲.
Flag Counter