| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
حدیث ۸: امام مسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے حکم فرمایا کہ'' سینگ والا مینڈھا لایا جائے جو سیاہی میں چلتا ہو اور سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں نظر کرتا ہو یعنی اوس کے پاؤں سیاہ ہوں اور پیٹ سیاہ ہو اور آنکھیں سیاہ ہوں وہ قربانی کے لیے حاضر کیا گیا حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فرمایا:''عائشہ چھری لاؤ پھر فرمایا اسے پتھر پر تیز کر لو پھر حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے چھری لی اور مینڈھے کو لٹایا اور اوسے ذبح کیا پھر فرمایا:
''بِسْمِ اللہِ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُّحَمَّدٍ.وَاٰلِ مُحَمَّدٍ.وَمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ.''(1)
الٰہی تو اس کو محمد صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کی طرف سے اور اون کی آل اور امت کی طرف سے قبول فرما۔
حدیث ۹: امام احمد و ابو داود و ابن ماجہ و دارمی جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ''نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے ذبح کے دن دو مینڈھے سینگ والے چت کبرے خصی کیے ہوئے ذبح کیے جب اون کا مونھ قبلہ کو کیا یہ پڑھا:اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلٰی مِلَّۃِ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَا تِیْ وَ نُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُّحَمّدٍ وَّاُمَّتِہٖ بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَرُ.(2)
اس کو پڑھ کر ذبح فرمایا ''(3)اور ایک روایت میں ہے کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے یہ فرمایا کہ''الٰہی یہ میری طرف سے ہے اور میری امت میں اوس کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔ ''(4)
حدیث ۱۰: امام بخاری و مسلم نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ''رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے دو مینڈھے چت کبرے سینگ والوں کی قربانی کی اونھیں اپنے دست مبارک سے ذبح کیا اوربِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَر
کہا ،کہتے ہیں میں نے حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کو دیکھا کہ اپنا پاؤں ان کے پہلوؤں پر رکھا اور
بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَر
کہا۔''(5)
حدیث ۱۱: ترمذی میں حنش سے مروی وہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو دیکھا کہ دو مینڈھے کی قربانیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الأضاحی،باب إستحباب إستحسان الضحیۃ...إلخ،الحدیث:۱۹۔(۱۹۶۷)ص۱۰۸۷. 2۔۔۔۔۔۔میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ملت ابراہیمی پر ایک اسی کا ہو کر، اور میں مشرکوں میں نہیں ۔بے شک میری نمازاورمیری قربانیاں اورمیراجینا اور میر امرنا سب اﷲ(عزوجل) کے لئے ہے جورب(ہے) سارے جہان کا،اس کا کوئی شریک نہیں،مجھے یہی حکم ہواہے اور میں مسلمانوں میں ہوں،الٰہی یہ تیری توفیق سے ہے اور تیرے لیے ہی ہے محمد(صلَّی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)اور آپ کی امت کی طرف سے،بسم اللہ واللہ اکبر۔ 3۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب ما یستحب من الضحایا،الحدیث:۲۷۹۵،ج۳،ص۱۲۶. 4۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب في الشاۃ یضحی بہاعن جماعۃ، الحدیث: ۲۸۱۰،ج۳،ص۱۳۱. 5۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الأضاحی،باب إستحباب إستحسان الضحیۃ...إلخ،الحدیث:۱۷(۱۹۶۶)،۱۸(۱۹۶۶) ص۱۰۸۶.