فرمایا:''جس نے خوشیِ دل سے طالب ثواب ہو کر قربانی کی وہ آتش جہنم سے حجاب (روک)ہو جائے گی۔ ''(1)
حدیث ۳: طبرانی ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:''جو روپیہ عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں۔''(2)
حدیث ۴: ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:'' جس میں وسعت ہو اور قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ ''(3)
حدیث ۵: ابن ماجہ نے زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ صحابہ(رضی اللہ تعالٰی عنہم)نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ قربانیاں کیا ہیں فرمایا کہ''تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے''لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے فرمایا:''ہر بال کے مقابل نیکی ہے عرض کی اُون کا کیا حکم ہے فرمایا:''اُون کے ہر بال کے بدلے میں نیکی ہے۔ ''(4)
حدیث ۶: صحیح بخاری میں براء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''سب سے پہلے جو کام آج ہم کریں گے وہ یہ ہے کہ نماز پڑھیں پھر اوس کے بعد قربانی کریں گے جس نے ایسا کیا اوس نے ہماری سنت (طریقہ)کو پالیا اور جس نے پہلے ذبح کر لیا وہ گوشت ہے جو اوس نے پہلے سے اپنے گھر والوں کے لیے طیار کر لیا قربانی سے اوسے کچھ تعلق نہیں۔''ابوبردہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کھڑے ہوئے اور یہ پہلے ہی ذبح کرچکے تھے(اس خیال سے کہ پروس کے لوگ غریب تھے انھوں نے چاہا کہ اون کو گوشت مل جائے)اور عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)میرے پاس بکری کا چھ ماہہ ایک بچہ ہے فرمایا:''تم اوسے ذبح کر لو اور تمہارے سوا کسی کے لیے چھ ماہہ بچہ کفایت نہیں کریگا۔ ''(5)
حدیث ۷: امام احمد وغیرہ براء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ'' آج کے دن جو کام ہم کو پہلے کرنا ہے وہ نماز ہے اوس کے بعد قربانی کرنا ہے جس نے ایسا کیا وہ ہماری سنت کو پہنچا اور جس نے پہلے ذبح کر ڈالا وہ گوشت ہے جو اوس نے اپنے گھر والوں کے لیے پہلے ہی سے کر لیا۔ نسک یعنی قربانی سے اوس کو کچھ تعلق نہیں۔ ''(6)