Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
327 - 357
    مسئلہ ۱۹: کسی نے دوسرے سے اپنے جانور کے متعلق کہا اسے ذبح کر دو اوس نے اوس وقت ذبح نہیں کیا مالک نے وہ جانور کسی کے ہاتھ بیچ ڈالا اب اوس نے ذبح کر دیا اس کو تاوان دینا ہوگا اور جس نے اس سے ذبح کرنے کو کہا تھا تاوان کی رقم اوس سے واپس نہیں لے سکتا ذبح کرنے والے کو بیع کا علم ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں کا ایک ہی حکم ہے۔(1) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۰: جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ذبح شرعی سے اون کا گوشت اور چربی اور چمڑا پاک ہو جاتا ہے مگر خنزیر کہ اس کا ہر جز نجس ہے اور آدمی اگرچہ طاہر ہے اس کا استعمال ناجائز ہے۔ (2)(درمختار)ان جانوروں کی چربی وغیرہ کو اگر کھانے کے سوا خارجی طور پر استعمال کرنا چاہیں تو ذبح کر لیں کہ اس صورت میں اوس کے استعمال سے بدن یا کپڑا نجس نہیں ہوگا اور نجاست کے استعمال کی قباحت سے بھی بچنا ہوگا۔
اضحیہ یعنی قربانی کا بیان
    مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب ذبح کرنا قربانی ہے اور کبھی اوس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے جو اس امت کے لیے باقی رکھی گئی اور نبی کریم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کو قربانی کرنے کا حکم دیا گیا، ارشاد فرمایا:
 (فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ ؕ﴿۲﴾)
 (3) 

''تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔'' 

    اس کے متعلق پہلے چند احادیث ذکر کی جاتی ہیں پھر فقہی مسائل بیان ہوں گے۔ 

    حدیث ۱: ابو داود، ترمذی و ابن ماجہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے راوی کہ حضور اقدس صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ''یوم النحر(دسویں ذی الحجہ)میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے)سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے لہٰذا اس کو خوش دلی سے کرو۔ ''(4)

    حدیث ۲: طبرانی حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی کہ حضور( صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبائح،الباب الثالث فی المتفرقات،ج۵،ص۲۹۱.

2۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الذبائح،ج۹،ص۵۱۳.

3۔۔۔۔۔۔پ۳۰،الکوثر:۲.

4۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''،کتاب الأضاحی،باب ماجاء في فضل الأضحیۃ،الحدیث:۱۴۹۸،ج۳،ص۱۶۲.
Flag Counter