مسئلہ ۱۳: بکری سے کتے کی شکل کا بچہ پیدا ہوا اگر وہ بھونکتا ہے تو نہ کھایا جائے اور اگر اوس کی آواز بکری کی طرح ہے کھایا جاسکتا ہے اور اگر دونوں طرح آواز دیتا ہے تو اوس کے سامنے پانی رکھا جائے اگر زبان سے چاٹے کتا ہے اور مونھ سے پیے تو بکری ہے اور اگر دونوں طرح پانی پیے تو اوس کے سامنے گھاس اور گوشت دونوں چیزیں رکھیں گھاس کھائے تو بکری مگر اس کا سر کاٹ کر پھینک دیا جائے کھایا نہ جائے اور گوشت کھائے تو کتا ہے اور اگر دونوں چیزیں کھائے تو اوسے ذبح کر کے دیکھیں اوس کے پیٹ میں معدہ ہے تو کھا سکتے ہیں اور نہ ہو تو نہ کھائیں۔ (1)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۴: جانور کو ذبح کیا وہ اٹھ کر بھاگا اور پانی میں گر کر مرگیا یا اونچی جگہ سے گر کر مرگیا اوس کے کھانے میں حرج نہیں کہ اوس کی موت ذبح ہی سے ہوئی پانی میں گرنے یا لڑھکنے کا اعتبار نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: زندہ جانور سے اگر کوئی ٹکڑا کاٹ کر جدا کر لیا گیا مثلاً دنبہ کی چکی کاٹ لی یا اونٹ کا کوہان کاٹ لیا یا کسی جانور کا پیٹ پھاڑ کر اوس کی کلیجی نکال لی یہ ٹکڑا حرام ہے۔ جدا کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ گوشت سے جدا ہوگیا اگرچہ ابھی چمڑا لگا ہوا ہو اور اگر گوشت سے اس کا تعلق باقی ہے تو مردار نہیں یعنی اس کے بعد اگر جانور کو ذبح کر لیا تو یہ ٹکڑا بھی کھایا جاسکتا ہے۔ (3)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: جانور کو ذبح کر لیا ہے مگر ابھی اوس میں حیاۃ باقی ہے اوس کا کوئی ٹکڑا کاٹ لیا یہ حرام نہیں کہ ذبح کے بعد اوس جانور کا زندوں میں شمار نہیں اگرچہ جب تک جانور ذبح کے بعد ٹھنڈا نہ ہو جائے اوس کا کوئی عضو کاٹنا مکروہ ہے۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: شکار پر تیر چلایا اوس کا کوئی ٹکڑا کٹ کر جدا ہوگیا اگر وہ ایسا عضو ہے کہ بغیر اوس کے جانور زندہ رہ سکتا ہے تو اوس کا کھانا حرام ہے اور اگر بغیر اوس کے زندہ نہیں رہ سکتا مثلاً سر جدا ہوگیا تو سر بھی کھایا جائے گا اور وہ جانور بھی۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: زندہ مچھلی میں سے ایک ٹکڑا کاٹ لیا یہ حلال ہے اور اس کاٹنے سے اگر مچھلی پانی میں مرگئی تو وہ بھی حلال ہے۔ (6)(ہدایہ)