صورتوں میں وہ مری ہوئی مچھلی حلال ہے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جھینگے کے متعلق اختلاف ہے کہ یہ مچھلی ہے یا نہیں اسی بنا پر اس کی حلت و حرمت میں بھی اختلاف ہے بظاہر اوس کی صورت مچھلی کی سی نہیں معلوم ہوتی بلکہ ایک قسم کا کیڑا معلوم ہوتا ہے لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے۔
مسئلہ ۸: چھوٹی مچھلیاں بغیر شکم چاک کئے بھون لی گئیں ان کا کھانا حلال ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: مچھلی کا پیٹ چاک کیا اوس میں موتی نکلا اگر یہ سیپ کے اندر ہے تو مچھلی والا اس کا مالک ہے۔ شکاری نے مچھلی بیچ ڈالی ہے تو وہ موتی مشتری کا ہے اور اگر موتی سیپ میں نہیں ہے تو مشتری شکاری کو دے دے اور یہ لقطہ ہے۔ اور مچھلی کے شکم میں انگوٹھی یا روپیہ یا اشرفی یا کوئی زیور ملا تو لقطہ ہے اگر یہ شخص خود محتاج و فقیر ہے تو اپنے صرف میں لاسکتا ہے(3)ورنہ تصدق کر دے۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: بعض گائیں، بکریاں غلیظ کھانے لگتی ہیں ان کو جَلّالہ کہتے ہیں اس کے بدن اور گوشت وغیرہ میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے اس کو کئی دن تک باندھ رکھیں کہ نجاست نہ کھانے پائے جب بدبو جاتی رہے ذبح کر کے کھائیں اسی طرح جو مرغی غلیظ کھانے کی عادی ہو اوسے چند روز بند رکھیں جب اثر جاتا رہے ذبح کر کے کھائیں۔ جو مرغیاں چھوٹی پھرتی ہیں ان کو بندکرنا ضروری نہیں جبکہ غلیظ کھانے کی عادی نہ ہوں اور ان میں بدبو نہ ہو ہاں بہتر یہ ہے کہ ان کو بھی بند رکھ کر ذبح کریں۔(5)(عالمگیری،ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: بکرا جو خصی نہیں ہوتا وہ اکثر پیشاب پینے کا عادی ہوتا ہے اور اوس میں ایسی سخت بدبو پیدا ہو جاتی ہے کہ جس راستہ سے گزرتا ہے وہ راستہ کچھ دیر کے لیے بدبودار ہو جاتا ہے اس کا بھی حکم وہی ہے جو جلالہ کا ہے کہ اگر اس کے گوشت سے بدبو دفع ہوگئی تو کھا سکتے ہیں ورنہ مکروہ و ممنوع۔
مسئلہ ۱۲: بکری کے بچہ کو کتیا کا دودھ پلاتا رہا اس کا بھی حکم جلالہ کا ہے کہ چند روز تک اوسے باندھ کر چارہ کھلائیں کہ وہ اثر جاتا رہے۔(6) (عالمگیری)