ساتھ متصف ہو جائے لہٰذا انسان کو اون کے کھانے سے منع کیا گیا حلال و حرام جانوروں کی تفصیل دشوار ہے۔ یہاں چند کلیات بیان کیے جاتے ہیں جن کے ذریعہ سے جزئیات جانے جاسکتے ہیں۔
مسئلہ ۱: کیلے والا(1)جانور جو کیلے سے شکار کرتا ہو حرام ہے جیسے شیر، گیدڑ، لومڑی، بِجُّو، کتا وغیرہا کہ ان سب میں کیلے ہوتے ہیں اور شکار بھی کرتے ہیں۔ اونٹ کے کیلا ہوتا ہے مگر وہ شکار نہیں کرتا لہٰذا وہ اس حکم میں داخل نہیں۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲: پنجہ والا پرند جو پنجہ سے شکار کرتا ہے حرام ہے جیسے شکرا، باز، بَہری، چیل۔ حشرات الارض حرام ہیں جیسے چوہا، چھپکلی، گرگٹ، گھونس، سانپ، بچھو، بر(3)، مچھر، پسو، کٹھمل، مکھی، کلی، مینڈک وغیرہا۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: گھریلو گدھا اور خچر حرام ہے اور جنگلی گدھا جسے گورخر کہتے ہیں حلال ہے گھوڑے کے متعلق روایتیں مختلف ہیں یہ آلہ جہاد ہے اس کے کھانے میں تقلیل آلہ ئجہاد ہوتی ہے لہٰذا نہ کھایا جائے۔ (5)(درمختار وغیرہا)
مسئلہ ۴: کچھوا خشکی کا ہو یا پانی کا حرام ہے۔ غراب ابقع یعنی کوا جو مردار کھاتا ہے حرام ہے۔ اور مہو کا کہ یہ بھی کوے سے ملتا جلتا ایک جانور(6)ہوتا ہے حلال ہے۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵: پانی کے جانوروں میں صرف مچھلی حلال ہے ۔جو مچھلی پانی میں مر کر تیر گئی یعنی جو بغیر مارے اپنے آپ مر کر پانی کی سطح پر اولٹ گئی وہ حرام ہے مچھلی کو مارا اور وہ مر کر اولٹی تیرنے لگی یہ حرام نہیں۔(8) (درمختار) ٹِڈِّی بھی حلال ہے۔ مچھلی اور ٹڈی یہ دونوں بغیر ذبح حلال ہیں جیسا کہ حدیث میں فرمایا کہ دو ۲ مردے حلال ہیں مچھلی اور ٹڈی۔
مسئلہ ۶: پانی کی گرمی یا سردی سے مچھلی مرگئی یا مچھلی کو ڈورے میں باندھ کر پانی میں ڈال دیا اور مرگئی یا جال میں پھنس کر مرگئی یا پانی میں کوئی ایسی چیز ڈال دی جس سے مچھلیاں مرگئیں اور یہ معلوم ہے کہ اوس چیز کے ڈالنے سے مریں یاگھڑے یا گڑھے میں مچھلی پکڑ کر ڈال دی اور اوس میں پانی تھوڑا تھا اس وجہ سے یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے مرگئی ان سب