| بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15) |
حدیث ۹: صحیحین میں عبداﷲبن ابی اَوفی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہتے ہیں ہم رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم کے ساتھ سات غزوے میں تھے ہم حضور (صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی موجودگی میں ٹڈی کھاتے تھے۔ (1)
حدیث ۱۰: صحیحین میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی کہتے ہیں میں جیش الخبط(2)میں گیا تھا اور امیر لشکر ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے ہمیں بہت سخت بھوک لگی تھی دریا نے مری ہوئی ایک مچھلی پھینکی کہ ویسی مچھلی ہم نے نہیں دیکھی اوس کا نام عنبر ہے ہم نے آدھے مہینے تک اوسے کھایا ابو عبیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اوس کی ایک ہڈی کھڑی کی بعض روایت میں ہے پسلی کی ہڈی تھی اوس کی کجی اتنی تھی کہ اوس کے نیچے سے اونٹ مع سوار گزر گیا جب ہم واپس آئے تو حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)سے ذکر کیافرمایا :''کھاؤ اﷲ(عزوجل) نے تمہارے لیے رزق بھیجا ہے اور تمہارے پاس ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ'' ہم نے اوس میں سے حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کے پاس بھیجا حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے تناول فرمایا۔ (3)
حدیث ۱۱ و ۱۲: صحیح بخاری و مسلم میں ام شریک رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے وزغ (چھپکلی اور گرگٹ)کے قتل کا حکم دیا اور فرمایا کہ''ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کے لیے کافروں نے جو آگ جلائی تھی اوسے یہ پھونکتا تھا''(4)اور صحیح مسلم میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جو روایت ہے اوس میں یہ بھی ہے کہ اس کا نام حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے فُوَیْسِقْ رکھا(5)یعنی چھوٹا فاسق یا بڑا فاسق اس لفظ میں دونوں معنی کا احتمال ہے۔ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب الذبائح...إلخ،باب أکل الجراد،الحدیث:۵۴۹۵،ج۳،ص۵۵۷. 2۔۔۔۔۔۔ اس لشکر میں جب توشہ کی کمی ہوئی تو سب کے پاس جو کچھ تھا اکٹھا کر لیا گیا روزانہ فی کس ایک مٹھی کھجور ملتی جب اور کمی ہوئی تو روزانہ ایک کھجور ملتی جس کو صحابہء کرام مونھ میں رکھ کر کچھ چوس کر نکال لیتے اور رکھ لیتے پھر اوپر سے پانی پی لیتے اسی ایک کھجور کو چوس چوس کر ایک دن رات گزارتے اور شدتگُرُسْنَگی(بھوک)سے درختوں کے پتے جھاڑ کر کھاتے جس سے اون کے مونھ چھل گئے اور زخمی ہوگئے اسی وجہ سے اس کا نام جیش الخبط ہے کہ خبط درختوں کے پتوں کو کہتے ہیں جو جھاڑ لیے جاتے ہیں اور پتوں کے کھانے کی وجہ سے اونٹ اور بکری کی مینگنی کی طرح اون کو اجابت ہوتی۔ خدا(تعالیٰ)نے اپنا کرم کیا کہ ساحل پر ٹیلے برابر کی یہ عنبر مچھلی اون کو ملی جس کی آنکھوں کے حلقے سے مٹکے برابر چربی نکلی اوس کو پندرہ دن تک یا ایک ماہ تک جیسا کہ دوسری روایت میں ہے اون حضرات نے کھایا۔ اس واقعہ کو مختصر طور پر بیان کرنے کا یہ مقصد بھی ہے کہ مسلمان دیکھیں اور غور کریں کہ حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم نے اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں کیسی کیسی تکالیف برداشت کیں اونھیں حضرات کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اسلام اپنی کمال تابانی سے تمام عالم کو منور کر رہا ہے۔ ۱۲ منہ 3۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب المغازی،باب غزوۃ سِیْفِ البحر...إلخ،الحدیث:۴۳۶۰و۴۳۶۲،ج۳،ص۱۲۷،۱۲۸. 4۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب أحادیث الأنبیائ،باب قول اللہ تعالی ا (واتخذاللہ ابراھیم خلیلاً)،الحدیث:۳۳۵۹،ج۲،ص۴۲۳. 5۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب السلام،باب إستحباب قتل الوزغ،الحدیث:۱۴۴۔(۲۲۳۸)،ص۱۲۳۰.