Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
320 - 357
کھایا جاسکتا ہے ورنہ نہیں اگر وہ واپس نہیں آسکتا تو بہرصورت کھایا جاسکتا ہے۔ (1)(خانیہ) 

    مسئلہ ۳۷: ہرن کو پال لیا وہ اتفاق سے جنگل میں چلا گیا کسی نے بسم اﷲکہہ کر اوسے تیر مارا اگر تیر ذبح کی جگہ پر لگا حلال ہے ورنہ نہیں ہاں اگر وحشی ہوگیا اور اب بغیر شکار کئے ہاتھ نہ آئے گا تو جہاں بھی لگے حلال ہے۔(2) (خانیہ) 

    مسئلہ ۳۸: گائے یا بکری ذبح کی اور اس کے پیٹ میں بچہ نکلا اگر وہ زندہ ہے ذبح کر دیا جائے حلال ہو جائے گا اور مرا ہوا ہے تو حرام ہے اوس کی ماں کا ذبح کرنا اوس کے حلال ہونے کے لیے کافی نہیں۔ (3)(درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۳۹: بلی نے مرغی کا سر کاٹ لیا اور وہ ابھی زندہ ہے پھڑک رہی ہے ذبح نہیں کی جاسکتی۔(4) (عالمگیری) 

    مسئلہ۴۰: جانور کو دن میں ذبح کرنا بہتر ہے اور مستحب یہ ہے کہ ذبح سے پہلے چھری تیز کر لے کند چھری یا ایسی چیزوں سے ذبح کرنے سے بچے جس سے جانور کو ایذا ہو۔(5) (عالمگیری)
حلال و حرام جانوروں کا بیان
    حدیث ۱: ترمذی نے عرِباض بن ساریہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے خیبر کے دن کیلے والے درندہ سے اور پنجہ والے پرند سے اور گھریلو گدھے اور مجثمہ اور خلیسہ سے ممانعت فرمائی اور حاملہ عورت جب تک وضع حمل نہ کر لے اس کی وطی سے ممانعت فرمائی یعنی حاملہ لونڈی کا مالک ہوا یا زانیہ عورت حاملہ سے نکاح کیا تو جب تک وضع حمل نہ ہو اوس سے وطی نہ کرے۔ مجثمہ یہ ہے کہ پرند یا کسی جانور کو باندھ کر اوس پر تیر مارا جائے۔ خلیسہ یہ ہے کہ بھیڑیے یا کسی درندہ نے جانور پکڑا اوس سے کسی نے چھین لیا اور ذبح سے پہلے وہ مرگیا۔(6) 

    حدیث ۲: ابو داود و دارمی جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ رسول اﷲصلَّی اللہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے  فرمایا:ــ'' جنین (پیٹ کے بچہ)کا ذبح اوس کی ماں کے ذبح کی مثل ہے''۔(7)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الصید والذبا ئح،ج۴،ص۳۳۸.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۵۰۷،وغیرہ.

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبا ئح،الباب الاول فی رکنہٖ...إلخ،ج۵،ص۲۸۷.

5۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

6۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''،کتاب الأطعمۃ،باب ماجاء فيکراھیۃ أکل المصبورۃ،الحدیث:۱۴۷۹،ج۳،ص۱۵۰.

7۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب الضحایا،باب ما جاء في ذکاۃ الجنین،الحدیث:۲۸۲۸،ج۳،ص۱۳۸.
Flag Counter