مسئلہ ۲۸: بسم اﷲکسی دوسرے مقصد سے پڑھی اور جانور کو ذبح کر دیا تو جانور حلال نہیں اور اگر زبان سے بسم اﷲکہی اور دل میں یہ نیت حاضر نہیں کہ جانور ذبح کرنے کے لیے بسم اﷲ کہتا ہوں تو جانور حلال ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۲۹: ذبح اختیاری میں شرط یہ ہے کہ ذبح کرنے والا ذبح کے وقت بسم اﷲ پڑھے یہاں مذبوح پر بسم اﷲ پڑھی جاتی ہے یعنی جس جانور کو ذبح کرنے کے لیے بسم اﷲپڑھی اوسی کو ذبح کرسکتے ہیں دوسرا جانور اس تسمیہ سے حلال نہ ہوگا مثلاً بکری ذبح کرنے کے لیے لٹائی اور اس کے ذبح کرنے کوبسم اﷲپڑھی مگر اس کو ذبح نہیں کیا بلکہ اس کی جگہ دوسری بکری ذبح کر دی یہ حلال نہیں ہوئی یہ ضرور نہیں کہ جس چھری سے ذبح کرنا چاہتا تھا اور بسم اللہ پڑھ لی تو اوسی سے ذبح کرے بلکہ دوسری چھری سے بھی ذبح کرسکتا ہے اور شکار کرنے میں آلہ پربسم اﷲپڑھی جاتی ہے یعنی اوسی آلہ سے شکار کرنا ہوگا دوسرے سے کریگا حلال نہ ہوگا مثلاًتیر چھوڑنا چاہتا ہے اور بسم اﷲپڑھی مگر اس کو رکھ دیا دوسرا تیر چلایا تو جانور حلال نہیں اور اگر جس جانور کو تیر سے مارنا چاہتا ہے اوس کو تیر نہیں لگا دوسرا جانور اس تیر سے مارا تو یہ حلال ہے۔(2) (ہدایہ)
مسئلہ ۳۰: خود ذبح کرنے والے کو بسم اﷲکہنا ضرور ہے دوسرے کا کہنا اس کے کہنے کے قائم مقام نہیں یعنی دوسرے کے بسم اﷲپڑھنے سے جانور حلال نہ ہوگا جبکہ ذابح نے قصداً (3)ترک کیا ہو اور دو شخصوں نے ذبح کیا تو دونوں کا پڑھنا ضروری ہے ایک نے قصداً ترک کیا تو جانور حرام ہے۔ (4)(ردالمحتار)معین ذابح سے یہی مراد ہے کہ ذبح کرنے میں اوس کا معین ہو یعنی دونوں نے مل کر ذبح کیا ہو دونوں نے چھری پھیری ہو مثلاً ذابح کمزور ہے کہ اوس کی تنہا قوت کام نہیں دے گی دوسرے نے بھی شرکت کی دونوں نے مل کر چھری چلائی۔ اگر دوسرا شخص جانور کو فقط پکڑے ہوئے ہے تو یہ معین ذابح نہیں اس کے پڑھنے نہ پڑھنے کو کچھ دخل نہیں۔ یہ اگر پڑھتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ ذابح کو بسم اﷲیاد آجائے اور پڑھ لے۔
مسئلہ۳۱: بسم اﷲکہنے اور ذبح کرنے کے درمیان طویل فاصلہ نہ ہو اور مجلس بدلنے نہ پائے اگر مجلس بدل گئی اور عمل کثیر بیچ میں پایا گیا تو جانور حلال نہ ہوا۔ ایک لقمہ کھایا یا ذرا سا پانی پیا یا چھری تیز کر لی یہ عمل قلیل ہے جانور اس صورت میں حلال ہے۔ (5)(درمختار ،ردالمحتار)