Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ پانزدَہم (15)
317 - 357
مثلاً یوں کہا
بسم اﷲمحمد رسول اﷲ
یا
بسم اﷲاللّٰھم تقبل من فلان
ایسا کرنا مکروہ ہے مگر جانور حرام نہیں ہوگا۔ اور اگر عطف کے ساتھ دوسرے کا نام ذکر کیا مثلاً یوں کہا
بسم اﷲ واسم فلان
اس صورت میں جانور حرام ہے کہ یہ جانور غیر خدا کے نام پر ذبح ہوا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ذبح سے پہلے مثلاً جانور کو لٹانے سے پہلے اس نے کسی کا نام لیا یا ذبح کرنے کے بعد نام لیا تو اس میں حرج نہیں جس طرح قربانی اور عقیقہ میں دعائیں پڑھی جاتی ہیں اور قربانی میں اون لوگوں کے نام لیے جاتے ہیں جن کی طرف سے قربانی ہے اور حضور اقدس صلی اﷲعلیہ وسلم اور حضرت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے نام بھی لیے جاتے ہیں۔ (1) (ہدایہ وغیرہا)۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ
مَااُھِلَّ لِغَیْرِاللہِ بِہ
جو حرام ہے اوس کا مطلب یہ ہے کہ ذبح کے وقت جب غیر خدا کا نام اس طرح لیا جائے گا اوس وقت حرام ہوگا اور وہابیہ یہ کہتے ہیں کہ آگے پیچھے جب کبھی غیر خدا کا نام لے دیا جائے حرام ہو جاتا ہے بلکہ یہ لوگ تو مطلقا ہر چیز کو حرام کہتے ہیں جس پر غیر خدا کا نام لیا جائے اون کا یہ قول غلط اور باطل محض ہے اگر ایسا ہو تو سب ہی چیزیں حرام ہو جائیں گی۔ کھانے پینے اور استعمال کی سب چیزوں پر لوگوں کے نام لے دیے جاتے ہیں اور ان سب کو حرام قرار دینا شریعت پر افترا اور مسلم کو زبردستی حرام کا مرتکب بنانا ہے معلوم ہوا کہ بعض مسلمان گائے ،بکرا، مرغ جو اس لیے پالتے ہیں کہ ان کو ذبح کر کے کھانا پکوا کر کسی ولی اﷲکی روح کو ایصال ثواب کیا جائے گا یہ جائز ہے اور جانور بھی حلال ہے اس کو مَااُھِلَّ لِغَیْرِ اللہِ میں داخل کرنا جہالت ہے کیونکہ مسلمان کے متعلق یہ خیال کرنا کہ اوس نے
تَقَرُّب اِلٰی غِیْرِاﷲ
کی نیت کی، ہٹ دھرمی اور سخت بدگمانی ہے مسلم ہرگز ایسا خیال نہیں رکھتا۔ عقیقہ اور ولیمہ اور ختنہ وغیرہ کی تقریبوں میں جس طرح جانور ذبح کرتے ہیں اور بعض مرتبہ پہلے ہی سے متعین کر لیتے ہیں کہ فلاں موقع اور فلاں کام کے لیے ذبح کیا جائے گا جس طرح یہ حرام نہیں ہے وہ بھی حرام نہیں۔ 

    مسئلہ ۲۶: بسم اﷲکی (ہ)کو ظاہر کرنا چاہیے اگر ظاہر نہ کی جیسا کہ بعض عوام اس کا تلفظ اس طرح کرتے ہیں کہ (ہ)ظاہر نہیں ہوتی اور مقصود اﷲ کا نام ذکر کرنا ہے تو جانور حلال ہے اور اگر یہ مقصود نہ ہو اور (ہ)کا چھوڑنا ہی مقصودہو تو حلال نہیں۔(2) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۷: مستحب یہ ہے کہ ذبح کے وقت
بِسْمِ اﷲاﷲُاَکْبَر
کہے یعنی
بِسْمِ اﷲ
اور
اَﷲُاَکْبَر
کے درمیان واؤ نہ لائے اور اگر
بِسْمِ اﷲ وَاﷲُ اَکْبَر
واؤ کے ساتھ کہا تو جانور اس صورت میں بھی حلال ہوگا مگر بعض علماء اس طرح کہنے کو مکروہ بتاتے ہیں۔(3) (درمختار وغیرہ)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الھدایۃ''،کتاب الذبا ئح،ج۲،ص۳۴۸،وغیرہا.

2۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۵۰۳.

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمحتار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۵۰۳،وغیرہ.
Flag Counter