گر پڑا کہ اوسے باقاعدہ ذبح نہ کرسکتے ہوں تو جس طرح ممکن ہو ذبح کرسکتے ہیں۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۹: ذبح میں عورت کا وہی حکم ہے جو مرد کا ہے یعنی مسلمہ یا کتابیہ عورت کا ذبیحہ حلال ہے اور مشرکہ و مرتدہ کا ذبیحہ حرام ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: گونگے کا ذبیحہ حلال ہے اگر وہ مسلم یا کتابی ہو اسی طرح اقلف کا یعنی جس کا ختنہ نہ ہوا ہو اور ابرص یعنی سپید داغ (3)والے کا ذبیحہ بھی حلال ہے۔(4) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: جن اگر انسان کی شکل میں ہو تو اس کا ذبیحہ جائز ہے اور انسانی شکل میں نہ ہو تو اوس کا ذبیحہ جائز نہیں۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: مجوسی نے آتش کدہ(6)کے لیے یا مشرک نے اپنے معبودان باطل کے لیے مسلمان سے جانور ذبح کرایا اور اس نے اﷲ(عزوجل)کا نام لے کر جانور ذبح کیا یہ جانور حرام نہ ہوا مگر مسلمان کو ایسا کرنا مکروہ ہے۔(7)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: مسلمان نے جانور ذبح کر دیا اس کے بعد مشرک نے اوس پر چھری پھیری تو جانور حرام نہ ہوا کہ ذبح توپہلے ہی ہوچکا اور اگر مشرک نے ذبح کر ڈالا اس کے بعد مسلم نے چھری پھیری تو حرام ہی ہے اس کے چھری پھیرنے سے حلال نہ ہوگا۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: ذبح کرنے میں قصداً بسم اﷲ نہ کہی جانور حرام ہے اور اگر بھول کر ایسا ہوا جیسا کہ بعض مرتبہ شکار کے ذبح میں جلدی ہوتی ہے اور جلدی میں بسم اﷲ کہنا بھول جاتا ہے اس صورت میں جانور حلال ہے۔(9) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۵: ذبح کرتے وقت بسم اﷲ کے ساتھ غیر خدا کا نام بھی لیا اس کی دو صورتیں ہیں اگر بغیر عطف ذکر کیا ہے