یوہیں جانور کو پاؤں پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے مذبح کو(1)لے جانا بھی مکروہ ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۴: اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سر کٹ کر جدا ہو جائے مکروہ ہے مگر وہ ذبیحہ کھایا جائے گا یعنی کراہت اوس فعل میں ہے نہ کہ ذبیحہ میں۔(3) (ہدایہ)عام لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ ذبح کرنے میں اگر سر جدا ہوجائے تو اس سر کا کھانا مکروہ ہے یہ کتب فقہ میں نظر سے نہیں گزرا بلکہ فقہا کا یہ ارشاد کہ ذبیحہ کھایا جائے گا اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سر بھی کھایا جائے گا۔
مسئلہ ۱۵: ہر وہ فعل جس سے جانور کو بلا فائدہ تکلیف پہنچے مکروہ ہے مثلاً جانور میں ابھی حیات باقی ہو ٹھنڈا ہونے سے پہلے اوس کی کھال اوتارنا اوس کے اعضاکاٹنا یا ذبح سے پہلے اوس کے سر کو کھینچنا کہ رگیں ظاہر ہو جائیں یا گردن کو توڑنا یوہیں جانور کو گردن کی طرف سے ذبح کرنا مکروہ ہے بلکہ اس کی بعض صورتوں میں جانور حرام ہو جائے گا۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۱۶: سنت یہ ہے کہ ذبح کرتے وقت جانور کا مونھ قبلہ کو کیا جائے اور ایسا نہ کرنا مکروہ ہے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: اگر جانور شکار ہو تو ضرور ہے کہ ذبح کرنے والا حلال ہو یعنی احرام نہ باندھے ہوئے ہو اور ذبح کرنا بیرونِ حرم(6)ہو لہٰذا مُحرِم(7)کا ذبح کیا ہوا جانور حرام ہے اور حرم میں شکار کو ذبح کیا تو ذبح کرنے والا محرِم ہو یا حلال دونوں صورتوں میں جانور حرام ہے اور اگر وہ جانور شکار نہ ہو بلکہ پلاؤ ہو(8)جیسے مرغی ،بکری وغیرہ اس کو محرم بھی ذبح کرسکتا ہے اور حرم میں بھی ذبح کرسکتے ہیں۔ نصرانی نے حرم میں جنگلی جانور کو ذبح کیا تو جانور حرام ہے یعنی مسلم ذبح کرے یا کتابی دونوں صورتوں میں حرام ہے۔ (9)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۸: جنگلی جانور اگر مانوس ہو جائے مثلاً ہرن وغیرہ پال لیتے ہیں اور وہ مانوس ہو جاتے ہیں ان کو اوسی طرح ذبح کیا جائے جیسے پلاؤ جانور ذبح کیے جاتے ہیں یعنی ذبح اختیاری ہونا ضرور ہے جس کا ذکر گزر چکا اور اگر گھریلو جانور وحشی کی طرح ہو جائے کہ قابو میں نہ آئے تو اس کا ذبح اضطراری ہے کہ جس طرح ممکن ہو ذبح کرسکتے ہیں۔ یوہیں اگر چوپایہ کوئیں میں