پڑھنے سے بھی حلال ہو جائے گا۔ اﷲعزوجل کا نام عربی کے سوا دوسری زبان میں لیا جب بھی حلال ہوجائے گا۔ (1)(عالمگیری) (۴)خود ذبح کرنے والا اﷲعزوجل کا نام اپنی زبان سے کہے اگر یہ خود خاموش رہا دوسروں نے نام لیا اور اسے یاد بھی تھا بھولا نہ تھا تو جانور حرام ہے، (۵)نام الٰہی(عزوجل)لینے سے ذبح پر نام لینا مقصود ہو اور اگر کسی دوسرے مقصد کے لیے بسم اﷲپڑھی اور ساتھ لگے ذبح کر دیا اور اس پر بسم اﷲپڑھنا مقصود نہیں ہے تو جانور حلال نہ ہوا مثلاًچھینک آئی اور اس پر الحمد ﷲکہا اور جانور ذبح کر دیا اس پر نام الٰہی(عزوجل)ذکر کرنا مقصود نہ تھا بلکہ چھینک پر مقصود تھا جانور حلال نہ ہوا (۶)ذبح کے وقت غیر خدا کا نام نہ لے (۷)جس جانور کو ذبح کیا جائے وہ وقت ذبح زندہ ہو اگرچہ اوس کی حیات کا تھوڑاہی حصہ باقی رہ گیا ہو۔ ذبح کے بعد خون نکلنا یا جانور میں حرکت پیدا ہونا یوں ضروری ہے کہ اوس سے اوس کا زندہ ہونا معلوم ہوتا ہے۔
مسئلہ ۱۱: بکری ذبح کی اور خون نکلا مگر اوس میں حرکت پیدا نہ ہوئی اگر وہ ایسا خون ہے جیسے زندہ جانور میں ہوتا ہے حلال ہے۔ بیمار بکری ذبح کی صرف اوس کے مونھ کو حرکت ہوئی اور اگر وہ حرکت یہ ہے کہ مونھ کھول دیا تو حرام ہے اور بند کر لیا تو حلال ہے اور آنکھیں کھول دیں تو حرام اور بند کر لیں تو حلال اور پاؤں پھیلا دیے تو حرام اور سمیٹ لیے تو حلال اور بال کھڑے نہ ہوئے تو حرام اور کھڑے ہوگئے تو حلال یعنی اگر صحیح طور پر اوس کے زندہ ہونے کا علم نہ ہو تو ان علامتوں سے کام لیا جائے اور اگر زندہ ہونا یقینا معلوم ہے تو ان چیزوں کا خیال نہیں کیا جائے گا بہرحال جانور حلال سمجھا جائے گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: ذبح ہر اوس چیز سے کر سکتے ہیں جو رگیں کاٹ دے اور خون بہا دے یہ ضرور نہیں کہ چھری ہی سے ذبح کریں بلکہکَھپَچِّی(3)اور دھاردار پتھر سے بھی ذبح ہوسکتا ہے صرف ناخن اور دانت سے ذبح نہیں کرسکتے جب کہ یہ اپنی جگہ پر قائم ہوں اور اگر ناخن کاٹ کر جدا کر لیا ہو یا دانت علیٰحدہ ہوگیا ہو تو اس سے اگرچہ ذبح ہو جائے گا مگر پھر بھی اس کی ممانعت ہے کہ جانور کو اس سے اذیت ہوگی۔ اسی طرح کند چھری سے بھی ذبح کرنا مکروہ ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۳: مستحب یہ ہے کہ جانور کو لٹانے سے پہلے چھری تیز کر یں اور لٹانے کے بعد چھری تیز کرنا مکروہ ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الذبائح، الباب الاوّل فی رکنہٖ...إلخ،ج۵،ص۲۸۵.
2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۲۸۶.
3۔۔۔۔۔۔بانس کا چرا ہوا ٹکڑا۔
4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الذبا ئح،ج۹،ص۴۹۴.