کسی طرح چمڑے کی مقدار بڑھ جائے اور اس کے لیے یہ ترکیب کرتے ہیں کہ بہت اوپر سے ذبح کرتے ہیں اور اس صورت میں ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ذبح فوق العقدہ(1)ہو جائے اور اس میں علما کو اختلاف ہے کہ جانور حلال ہوگا یا نہیں۔ اس باب میں قولِ فیصل یہ ہے کہ ذبح فوق العقدہ میں اگر تین رگیں کٹ جائیں توجانور حلال ہے ورنہ نہیں۔(2)(درمختار، ردالمحتار)علماکا یہ اختلاف اور رگوں کے کٹنے میں احتمال دیکھتے ہوئے احتیاط ضروری ہے کہ یہ معاملہ حلت و حرمت کا ہے(3)اور ایسے مقام پر احتیاط لازم ہوتی ہے۔
مسئلہ ۷: ذبح کی چار رگوں میں سے تین کا کٹ جانا کافی ہے یعنی اس صورت میں بھی جانور حلال ہو جائے گا کہ اکثر کے لیے وہی حکم ہے جو کل کے لیے ہے اور اگر چاروں میں سے ہر ایک کا اکثر حصہ کٹ جائے گا جب بھی حلال ہو جائے گا اور اگر آدھی آدھی ہر رگ کٹ گئی اور آدھی باقی ہے تو حلال نہیں۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: ذبح سے جانور حلال ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں۔ (۱)ذبح کرنے والا عاقل ہو۔ مجنوں یا اتنا چھوٹا بچہ جو بے عقل ہو ان کا ذبیحہ جائز نہیں اور اگر چھوٹا بچہ ذبح کو سمجھتا ہو اور اس پر قدرت رکھتا ہو تو اس کا ذبیحہ حلال ہے، (۲) ذبح کرنے والا مسلم ہو یا کتابی۔ مشرک اور مرتد کا ذبیحہ حرام و مردار ہے۔ کتابی اگر غیر کتابی ہوگیا تو اب اس کا ذبیحہ حرام ہے اور غیر کتابی ، کتابی ہوگیا تو اس کا ذبیحہ حلال ہے اور معاذ اﷲمسلمان اگر کتابی ہوگیا تو اس کا ذبیحہ حرام ہے کہ یہ مرتد ہے۔ لڑکا نابالغ ایسا ہے کہ اوس کے والدین میں ایک کتابی ہے اور ایک غیر کتابی تو اس کو کتابی قرار دیا جائے گا اور اس کا ذبیحہ حلال سمجھا جائے گا۔ (5)
مسئلہ ۹: کتابی کا ذبیحہ اوس وقت حلال سمجھا جائے گا جب مسلمان کے سامنے ذبح کیا ہو اور یہ معلوم ہو کہ اﷲ (عزوجل)کا نام لے کر ذبح کیا اور اگر ذبح کے وقت اوس نے حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام لیا اور مسلمان کے علم میں یہ بات ہے توجانور حرام ہے اور اگر مسلمان کے سامنے اوس نے ذبح نہیں کیا اور معلوم نہیں کہ کیا پڑھ کر ذبح کیا جب بھی حلال ہے۔ (۳)اﷲعزوجل کے نام کے ساتھ ذبح کرنا۔ ذبح کرنے کے وقت اﷲتعالیٰ کے ناموں میں سے کوئی نام ذکر کرے جانور حلال ہوجائے گا یہی ضروری نہیں کہ لفظاﷲ(عزوجل)ہی زبان سے کہے۔ (6)